ا سلام آباد ،21 فروری (اے پی پی ): احساس پروگرام کے تحت پندرہ   بلین روپے کی لاگت سے  پاکستان کے چاروں صوبوں میں 23غریب ترین اضلاع کی 375دیہی یونین کونسلوں میں احساس آمدن پروگرام کا  اجرا  کر دیا   گیا  جس  کے تحت مستحق افراد کو   واپسی کی شرط کے بغیر   ساٹھ ہزار  روپے تک کی مالیت  کے اثاثہ جات کی منتقلی کی جائے گی ۔ اس پروگرام کا   بنیادی   مقصد  خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کو چھوٹے اثاثے  دے   کر اس قابل بنانا ہے   کہ  وہ  اپنا  روزگار کما سکیں ۔

ان  ا ثاثہ جات میں مویشی (بکریاں، گائے، بھینسیں اور پولڑی)، زرعی آلات، چنگچی رکشہ باڈی،چھوٹے دوکانداروں اور چھوٹے کاروباری اداروں کیلئے آلات شامل ہیں۔

اس چار سالہ پروگرام کا ہدف   200,000   مستحق گھرانوں کو    پیداواری اثاثے   یا     پیشہ ورانہ  صلاحیت  مہیا کرنا ہے جس کا دائرہ کار نتائج کی بنیادپر وسیع کیا جائے گا ۔  مستحقین میں60 فیصد خواتین اور 30 فیصد نوجوان شامل ہیں جبکہ  مجموعی طور پر  دو لاکھ  اکیس ہزار  نو سو   چھبیس  بلا   سود قرضے فراہم کیے جائیں  گے۔

 صوبہ پنجاب کے وہ اضلاع جہاں اس پروگرام کا آغاز کیا جارہا ہے ان میں ڈیرہ غازی خان، جھنگ اور لیہ شامل ہیں جبکہ  خیبر پختونخوا میں 10اضلاع ،   بلوچستان کے تین اضلاع  کے علاوہ سندھ کے سات    اضلاع  میں پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے  ۔  ان اضلاع کو پی پی اے ایف کی جانب سے کی گئی ایک مخصوص سٹڈی کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا جن میں تین پیرامیٹرز انسانی ترقی کی سطح، غربت کی سطح اور خوراک کے عدم تحفظ کی سطح پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔ ان پیرامیٹرز میں سب سے کم درجہ پر آنے والے اضلاع کو پروگرام کے پہلے مرحلے میں شامل کیا گیا۔

 احساس آمدن پروگرام  موجودہ حکومت کی جانب سے    حقیقی  فلاحی  ریاست کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے      جس سے ایک جانب مستحق افراد کو   باعزت روزگار کے مواقع میسر ہو سکیں گے وہیں  ملک میں   غربت کے   خاتمے اور معاشی ترقی ک اخواب بھی شرمندہ تعبیر ہو گا

اے پی پی /   سعیدہ/ریحانہ