اسلام آباد،5 ستمبر  (اے پی پی): غریبوں  ، بیواﺅں، بے گھر، معذور اور بے روزگار افراد سمیت کمزور طبقات کے سماجی تحفظ،  معاشرے میں عدم مساوات میں کمی اور پسماندہ اضلاع کی ترقی  کو یقینی بنانے کیلئے  ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تقریباً 200 ارب روپے مالیت کا حامل سب سے بڑے ”احساس“ پروگرام کا آغاز  موجودہ حکومت کا طرہ  امتیاز ہے۔

احساس پروگرام کے فریم ورک کے تحت  منصوبوں   سے  4 سال میں ایک کروڑ61 لاکھ افراد مستفید ہوں گے جبکہ 4 سال کے دوران مجموعی طور پر 42.65 ارب روپے سے معاشرے کے غریب طبقات کی فلاح وبہبود کے اقدامات کئے جائیں گے

”احساس پروگرام” کے تحت احساس قرضہ حسنہ سکیم  کا   باقاعدہ آغاز  کر دیا گیا ہے  جس    کے تحت نوجوانوں اور خواتین میں ہر ماہ 80 ہزار سے زائد قرضے تقسیم کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں اور اپنے خاندانوں کو غربت سے نکال کر مالی طور پر مستحکم بنا سکیں۔ یہ قرضہ جات پسماندہ اضلاع میں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کئے جائیں گے۔

یہ  بلا سود قرضے پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے شراکتی اداروں کے تعاون سے گیارہ سو سے زائد قرضہ مراکز کے ذریعے دیے جارہے ہیں جبکہ ان  بلا سود قرضوں کی حد 75 ہزار روپے تک ہے ہے اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے عمر کی حد 18 سے ساٹھ سال جب کہ درخواست گزار کا قومی شناختی کارڈ کا حامل ہونا لازمی ہے اس کے علاوہ درخواست گزار کا ا س  ضلع کا رہائشی ہونا بھی ضروری ہے جہاں بلاسود قرض پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے۔

بلا سود قرض پروگرام کے کے بنیادی مقصد عوام کو باعزت روزگار شروع کرنے کے لئے مدد اور رہنمائی فراہم کرنا ہے اس بارے میں مزید معلومات پی پی اے ایف کی ویب سائٹ اور قریبی  قرضہ مرکز سے رجوع کرکے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں

 موجودہ حکومت ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں اور بلا سود قرضوں کی فراہمی کا یہ  پروگرام    معاشی خود مختاری اور   نوجوانوں اور کاروبار کی فاہمی کی جانب  ایک اہم قدم ہے جس سے ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کی راہیں ہموار ہوں گی

وی این ایس