اسلام آباد ، 05 اکتوبر ( اے پی پی ): تہذیب و تمدن اور علم و   آگہی  کی درسگاہ،    شفقت و اخلاص  اور  دنیا میں کامیابی سے رہنے کے گر  سکھانے والی  بے لوث  ہستیاں  ؛  استاد   جو   ان بے مثل خدمات کے عوض انبیا ء    کا     وارث  اور    معاشرے میں عزت و تکریم کا حقدار  ٹھہرا     لیکن         آج      تیز رفتار ترقی کی دوڑ  میں  بھاگتے   بھاگتے   مادی ترقی نے ہماری  روحانی،  مذہبی ،   تہذیبی و معاشرتی اقدار  کو     جیسے     پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

آج  تعلیم کا حصول  ملازمت   اور دنیاوی ترقی کے ساتھ مشروط   ہو چکا ہے ۔  تربیت،تہذیب،ادب اور اخلاق سب  کی اہمیت   کم ہوتی جا رہی ہے   اور  قوم کے کردا ر و ترقی    کی فلک بوس عمارت کے معمار    یہ   روحانی   والدین   اس عزت و تکریم سے محروم  ہو رہے ہیں جس کے   وہ مستحق ہیں  رشتوں کو بناوٹ   اور   مادیت   نے ایسا جکڑا کہ رشتے اپنی پہچان اور تقدس کھونے لگے۔تعلیم کاروبار بنی او اساتذہ کرام کا پیشہ بھی دوسرے پیشوں کی طرح ایک عام سا پیشہ رہ گیا۔

مگر  ہمیشہ سے ایسا  تو نہیں  تھا۔  گزرے   زمانوں میں استاد اور شاگرد احترام کے رشتوں  میں بندھے  تھے۔استاد  دنیاوی فائدوں سے قظع نظر اپنے شاگرد کی کامیابی  اور کامرانی کو ہی  اپنی کامیابی تصور کرتے تھے اور    شاگرد   اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرکے اپنے استاد کا فن اپنانے کی سر توڑ کوشش کرتے تھے۔ لیکن آج    بھاری رقم  کی  فیس  ادا  کر  کے   ڈگری  حاصل کرنے کے احساس نے  استاد اور شاگرد کے رشتے کو بھی ایک کاروباری معاہدہ بنا دیا   ہے ۔ شاگردوں نے اساتذہ کے احترام کو مذاق سمجھ کر بھلا دیا اور اب اس  تعلق میں نہ ادب کی گنجائش ہے نہ ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔

اس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ   اب     لوگوں کے  پاس ڈگریوں کے انبار توہیں مگر انکی    کردار   سازی   اور شخصیت کی  تعمیر    کا   وہ حصہ جو   استاد  کی   تربیت   سے بنتا تھا ادھورا اور   خالی رہ گیا۔

یوم اساتذہ  ایک موقع ہے   استاد کی اس عظمت رفتہ کی   بحالی      کا     ،      تا کہ  ہم  صحیح   معنوں میں   اس عظیم ہستی     کو  خراج    تحسین   پیش کر سکیں ۔

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے