اسلام آباد،10  اپریل (اے پی پی ): ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے  کہا ہے کہ اس وقت اسلام آباد میں  کرونا کے ایک سو دو مریض ہیں ۔ زیادہ مریض بارہ کوہ میں تھے جو کہ صحت یاب ہو چکے ہیں جن کی تعداد بیس تھی۔ اس کے علاوہ شہزاد ٹاون میں پندرہ مریض تھے۔ وہ بھی صحت یابی کی طرف ہیں۔ کرونا وائرس  کا تیسرا  مرکز ترامڑی چوک ہے جہاں ایک مریض پھرتا رہا اور اس نے اٹھارہ  اور لوگوں کو کرونا وائرس سے متاثر کیا جس کی  وجہ سے ہم نے وہ پورا علاقہ سیل کر دیا ہے۔

اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی  حمزہ شفاقت  کا کہنا تھا کہ مریضوں کو جانچنے کے حوالے سے ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ ہم لائیو ڈیٹا کلیکشن کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ لوگ کہاں سے آ رہے ہیں اور ان کی کیا ٹریول ہسٹری ہے۔ اگر ہمیں ایک مریض کے بارے میں اطلاع ملے تو ہم آدھے گھنٹے میں اپنی ٹیم لگا کے وہاں سرویلینس کرتے ہیں ، کیس کی انویسٹی گیشن کرتے ہیں اور پھر محکمہ صحت کے لوگ جو ہدایت دیتے ہیں اس کے مطابق یا تو علاقے کو سیل کر دیا جاتا ہے یا پھر قرنطینہ میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

حمزہ شفقات  نے بتایا کہ اسلام آباد کو مکمل لاک ڈاون نہیں کیا گیا کیونکہ فیڈرل سیکٹریٹ کو چھٹی نہیں دی گئی۔ یہاں انڈسٹری بھی چل رہی ہے لیکن  کچھ لوگوں کو چھوٹ دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سبزی منڈی بھی چل رہی ہے اور یہ سبزی منڈی اس پورے ریجن کی واحد سبزی منڈی ہے ، اس لئے ہمیں یہ رسک لینا پڑ رہا ہے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ان کو آگاہی دیں کہ کس طرح حفاظتی اقدامات کئے جا سکتے ہیں لیکن یہ کام اکیلے حکومت کا نہیں ہے، اس میں عوام کو اپنی انفرادی ذمہ داری نبھانی ہو گی اور میڈیا کا کردار اس حوالے سے بہت اہم ہے ۔

 کرونا وائرس سے متعلقہ  میڈیکل سامان کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمیں سامان کی کمی کا سامنا ہے کیونکہ اس کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ اس حوالے سے ہم نے ہر طرح کے ضروری اقدامات اٹھائے ہیں ۔ ہماری کوشش تھی کہ ہم ذخیرہ اندوزی نہ ہونے دیں اور ناجائز منافع خوری کو بھی روکیں ۔ اسلام آباد کی بائیس لاکھ آبادی ہے جس میں سے پندرہ لاکھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ماسک ملیں مگر ماسک کی کھپت کی چارسے پانچ لاکھ ہے۔ اس طرح ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق  کی وجہ سے بھی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔  انہوں  نے کاہ کہ شارٹیج کو ڈیل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے میڈیکل اکیوپمنٹ زیادہ سے زیادہ امپورٹ کیا جائے اور اس حوالے سے این ڈی ایم اے کام کر رہا ہے۔ امید ہے کہ ہفتے دس دن میں معاملات مزید بہتر ہو جائیں گے۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ اب تک سات سے آٹھ کروڑ کا سامان ہم پکڑ چکے ہیں اور روزانہ دس سے پندرہ لوگ گرفتار کر رہے ہیں جو ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں اور ان کو متعلقہ اداروں کے حوالے کیا  جا چکا ہے  اس کے باوجود جو بھی لوگ منافع خوری یا ذخیرہ اندوزی کرنے کا ارتکاب کرتے ہیں ان کو ہم نشان عبرت بنا رہے ہیں۔

اے پی پی /صائمہ /قرۃآلعین