اسلام آباد،31مئی  (اے پی پی):ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی (جی این اے ٹی) کے سپیکر پروفیسر ڈاکٹر مصطفی شین توپ نے کہا ہے کہ اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا کے مقاصد کا تدارک سب قوموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، ہم دوسروں کی توجیہات اور وضاحت میں خود کو مقید نہیں کر سکتے،مسلمانوں سے نفرت اور ان کا استحصال اسلاموفوبیا نہیں ہے۔ اس کو زیادہ واضح اور جامع الفاظ میں اسلام سے نفرت کہا جا سکتا ہے۔

 انہوں نے ان خیالات کا اظہار پارلیمانی اسمبلی برائے اقتصادی تعاون تنظیم کی دوسری جنرل اسمبلی کانفرنس کے موقع پر قومی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو اپنے خصوصی انٹرویو میں کیا، یہ کانفرنس قومی اسمبلی کی میزبانی میں31 مئی سے 2 جون تک اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے۔

ترکی کی جی این اے ٹی کے سپیکر نے کہا کہ ایسے طبقات جو اپنی نمائش کے خواہشمند ہوں اور ان پر توجہ نہ دی جائے تو وہ ”خوف” کی حالت میں اس طرح کے دشمنی پر مبنی اقدامات کے مرتکب ہوتے ہیں اور وہ دہشت گردی کو غلط طور پر اسلام سے منسوب کرکے اس بیانیہ کے پیچھے اپنے مقاصد چھپانا چاہتے ہیں، اس طرح کے خطرات سے پوری دنیا کو آگاہ کرنا چاہئے اور امن و امان اور سیکورٹی کے فروغ کے لئے مشترکہ حکمت عملی کے بیانیہ کے فروغ کی ضرورت ہے  تاکہ پوری دنیا کو اس خطرہ سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے مضبوط کمیونیکیشن نیٹ ورک کا قیام اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ اسی طرح اسلامی دنیا کو بھی مضبوط باہمی اتحاد کا مظاہر کرتے ہوئے مشترکہ وسائل سے استفادہ کی حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔

مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں جی این اے ٹی کے سپیکر  پروفیسر ڈاکٹر مصطفی شین توپ  نے کہا کہ ماضی میں کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے اقدامات باعث تشویش ہیں۔ 5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا گیا جو جموں و کشمیر کے لوگوں کو خصوصی حیثیت دیتا تھا۔ اس کے خاتمہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا اور اس سے تنازعہ کے حل کی راہیں مسدود کی گئیں تاہم اس حوالہ سے اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں قرار دادیں انتہائی واضح ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اس مسئلہ کو مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہر واقعہ کی خصوصی اہمیت ہوتی ہے اس لئے اقوام متحدہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس نے جو فیصلہ کیا تھا اس پر عملدرآمد کرائے جو نہایت اہم ہے۔

 پروفیسر ڈاکٹر مصطفی شین توپ نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کو سب سے پہلے کشمیر اور فلسطین کے بارے میں اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزشتہ طویل عرصہ سے ترکی کے ”دنیا پانچ ممالک سے کہیں بڑی ہے” کے نظریہ کے تحت اسی طرح کے مشترکہ مسائل کو اجاگر کرتے آ رہے ہیں۔

 مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بارے میں اپنے پیغام کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے کشمیری بھائیوں کو کئی دہائیوں سے مشکلات کا سامنا ہے اور ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور حال ہی میں بھارت کی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کے نتیجہ میں ان کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کشمیری عوام کو آزادی کے جائز حق کے مطالبہ سے نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر جبر و جارحیت کی بنیاد پر حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کا حل انصاف میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو مسئلہ کشمیر کے حل سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ستمبر 2020ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں ترکی کے واضح موقف کا اظہار کیا اور مسئلہ  کشمیر کے پرامن حل کے بارے میں ہر عالمی پلیٹ فارم پر ہم نے اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے۔

اے پی پی /ڈیسک/حامد