اسلام آباد،07 اکتوبر (اے پی پی ):سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کی انتخابی کامیابی کالعدم قرار دینے سے متعلق الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے درخواست پر حتمی فیصلہ ہونے تک  قاسم  خان سوری کی اسمبلی رکنیت بحال کردی۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف قاسم سوری کی اپیل پر سماعت کی اور اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا۔

عدالت میں دائر اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن ٹریبونل نے شواہد کا جائزہ نہیں لیا جبکہ انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ان کے موکل سے منسوب نہیں ہوسکتیں۔اس معاملے پر آج عدالت میں سماعت ہوئی، جس میں قاسم سوری کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے، ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو مذکورہ نشست پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے سے روک دیا اور الیکشن کمیشن کا قاسم سوری کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن بھی معطل کردیا۔

عبوری بحالی کے بعد ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے قومی اسمبلی میں اپنے آفس کو دوبارہ سے جوائن کیا جہاں  اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے انہیں خوش آمدید کہا گیا۔

سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے قاسم خان سوری نے کہاوہ پُراُمید ہیں  کہ سپریم کورٹ جو ملک کی علیٰ ترین عدالت ہے سے اُنہیں انصاف ملے گااور سپریم کورٹ جو بھی فیصلہ کرئے گی وہ حقائق کو مدنظر رکھ  کر کرئے گی۔

اس موقع پر بات کرت ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ ہم عوام کی طاقت سے آئے ہیں اور عہدوں کی سیاست کے لئے نہیں آئے اور وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ وفاق کی سیاست کی ہے۔

خیال رہے کہ 27 ستمبر کو الیکشن ٹریبونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 265 سے کامیاب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی کامیابی کو کالعدم قرار دیا تھا۔قاسم سوری کی انتخابی کامیابی کو نوابزادہ لشکری رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

لشکری رئیسانی ان 5 امیدواروں میں سے ایک تھے جنہوں نے این اے 265 سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن انہیں قاسم سوری سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ویڈو نیوز سروس   اسلام اآباد