اسلام آباد۔3جون  (اے پی پی): وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر اور نے ورچیوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا ہے کہ اپوزیشن بو کھلاہٹ کا شکار ہے، ان کو اچھے معاشی اشاریے ہضم نہیں ہو رہے،  مسلم لیگ (ن) نے اپنے بجٹ سیمینار میں غلط اعداد و شمار پیش کر کے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ (ن) لیگ کی معاشی ٹیم ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کے گئی تھی۔ موڈیز اور ففٹ جیسے عالمی اداروں نے ان کے دور میں پاکستان کی معیشت کی درجہ بندی کم کر دی تھی اور یہ خود اس وقت کہتے تھے کہ نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ حماد اظہر نے کہا کہ (ن) لیگ نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا ان کے دور میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ تھا، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو آدھا کر دیا گیا اور جو بچ گئے تھے ان کا بھی سودا کر کے چلے گئے۔ جب مسلم لیگ (ن) کا دور ختم ہوا تو ہمیں 10 ارب ڈالر قرضے واپس کرنا پڑ رہے تھے۔ انہوں نے مہنگے کمرشل قرضوں اور خساروں کے سہارے معیشت کو مستحکم دکھایا۔ حماد اظہر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے معیشت کی بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 2016ء کے بعد سے اب تک بلند ترین سطح پر ہیں۔ شرح نمو ترقی کی طرف گامزن ہے، کرنٹ اکائونٹ اب سرپلس ہے، بڑی صنعتوں کی شرح نمو 9 فیصد ہیں اور یہ 14 فیصد تک جا سکتی ہے۔ ٹیکس کا ہدف پورا ہو رہا ہے۔ ترسیلات زر  اور برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی پوری دنیا میں ہے، ہم بھی اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک میں معیشت سکڑ رہی ہے جبکہ پاکستان میں شرح نمو 4 سے ساڑھے 4 فیصد تک ہے اور یہ آنے والے سالوں میں مزید بڑھ رہے گی۔ حماد اظہر نے کہا کہ اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اسے حکومت کی اقتصادی کامیابیاں ہضم نہیں ہو رہیں، سابق حکمران سمجھتے تھے کہ کوئی حکومت ان مسائل کا مقابلہ نہیں کر سکے گی لیکن ہماری نیت صاف ہے۔ بہتر اقتصادی انتظام کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنایا جا رہا ہے اور ہمارے بیرونی قرضے بڑھنے کی رفتار 3.5 ارب ڈالر ہے اور ہماری شرح نمو پائیدار بنیادوں پر ہے، خسارہ کے سہارے نہیں۔ جب سابق حکومت چھوڑ کے گئی تھی تو بیرونی قرضوں میں اضافے کی رفتار 12 ارب ڈالر تھی۔ اقتصادی اعشاریوں سے ہر محبت وطن پاکستانی خوش ہے، معیشت کا پہیہ چل رہا ہے، روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں، معیشت کی ترقی کے اگلے امکانات بھی بہت روشن ہیں۔ حماد اظہر نے کہا کہ ہمیں اپنے اعداد و شمار پر مکمل اعتماد ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 2016ء کے بعد سے بلند ترین سطح پر ہیں۔ جب معیشت 4 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہو، بڑی صنعتیں اور زراعت کی نمو میں اضافہ ہو رہا ہو تو بیروزگاری بڑھنے کا کیسے کہا جا سکتا ہے۔  مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ملک میں بڑھتی معاشی سرگرمیاں کامیاب اقتصادی پالیسیوں کی مرہون منت ہیں، دنیا بھر میں معاشی سست روی کے باوجود ، پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور 4 فی صد شرح نمو حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ملکی معیشت کوبری طرح تباہ کیا،گزشتہ دورمیں قرضے لیکرملکی معیشت کوبہتر دکھانے کی کوشش کی گئی ،ن لیگ کے دورمیں کرنٹ اکائونٹ خسارہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ دور میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کو مصنوعی طریقے سے مستحکم دکھایا ۔انہوں نے کہا کہ شرح نمو میں میں اضافے اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہونے پر رواں سال فی کس آمدنی میں 13.4فیصدنمایاں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ فی کس آمدنی 1361 ڈالر سے بڑھ کر 1543 ڈالر ہو گئی۔