اسلا م آباد ، 23 اکتوبر (اے پی پی ): تلاش معاش ،   حصول تعلیم   ، علاج  معالجہ   یا دیگر    بہت   سے امور کی انجام دہی    کے  لیے    ہر روز لاکھوں افراد جڑواں شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں   لیکن  احتجاج   یا    دھرنوں کے باعث   راستوں   اور     ذرائع   مواصلات  کی بندش  کےنتیجے میں   دفاتر ، گھروں  ، ہاسپٹلز   اور دیگر ضروری کاموں  تک  پہنچنے   کی   دشواری  عوام   کے لیے  کسی امتحان سے کم نہیں   ہے ۔

 27 اکتوبر کو     مولانا   فضل الرحما ن کی جانب سے دی گئی     آزادی  مارچ کی کال   نے   راولپنڈی اور   اسلام آباد کے لاکھوں  شہریوں    کو ابھی سے پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے     کیونکہ   ایک طرف  پبلک   ٹرانسپورٹ اور اہم شاہراہوں       کی بندش  کے باعث   دفاتر    یا سکولز   پہنچنے کی  پریشانی  سر اٹھاتی نظر آ  رہی ہے وہیں     منٹوں   کا سفر گھنٹوں میں  طے نہیں ہو پاتا   اور اس سب پر   کرایوں اور  اشیا کی قیمتوں میں   بھی من  مانے اضافے سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے ۔

اس تمام   صوتحال سے  دفاتر  جانے والے افراد سے لے کر مریض ، گھریلو خواتین اور سکول   جانے والے   بچوں  تک  سب ہی متاثر ہوتے ہیں   اور کاروباری سرگرمیاں   متاثر ہونے سے   دیہاڑی دار افراد سے لے کر   تاجر برادری تک سب ہی    مشکلات کا  شکار ہیں ۔

پر امن   احتجاج   شہریوں   کا بنیادی حق   ہے لیکن  احتجاج   کے نام پر   نظام زندگی  کو مفلوج کرنا    کسی طرح بھی صحت   مندانہ رویہ نہیں    جس  کی حوصلہ    شکنی   ملکی سلامتی اور   ترقی کے لیے انتہائی    ضروری بھی ہے  اور   وقت کی اہم   ضرورت بھی ہے ۔

سورس : وی این ایس ،اسلام آباد