اسلام  آباد،04 نومبر (اے پی پی) : اپوزیشن کی جانب سے عدم تعاون اور ملک کو سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششوں کے باجود حکومت نے حالیہ عرصہ کے دوران معاشی میدان میں کئی اہم سنگ میل عبور کرلئے جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی کافی حد تک بحال ہوگیا ہے ۔

اکتوبر کے دوران سب سے   اہم  پیش رفت  عا لمی بینک  کی جانب    سے      اییز    آف    ڈوئنگ بزنس رپورٹ 2020ء کا اجرا ہے جس میں  پاکستان کاروبار میں آسانی کی درجہ بندی میں 28 درجے بہتری   کے بعد  108 ویں نمبر پر آگیا ، صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان کاروباری اصلاحات کرنے والے 10 بڑے ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہو گیا۔

اسی کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان  کی جانب سے  نیشنل پےمنٹ سسٹم سٹریٹیجی  کا اجرا بھی بڑی پیش رفت کہی جاسکتی ہے   جس کے تحت فنانشل مارکیٹ انفراسٹرکچر  کی حکمت عملی پر عمل درآمد کے ذریعے پاکستان کے جی ڈی پی میں 7 فیصد تک اضافہ کے علاوہ روزگار کے 40 لاکھ نئے مواقع بھی پیدا ہوں  گے جبکہ  بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ڈیپازٹس میں263 ارب ڈالر اضافہ متوقع ہے۔

دوسری طرف پاکستان سٹاک ایکسچینج نے ملکی تاریخ کی سب سے بڑے انرجی سکوک کو سرمایہ کاری کے لئے پیش کر دیا ہے ۔حکام کے مطابق یہ    مکمل طور پر شریعہ کمپلائنٹ فنانشل انسٹرومنٹ ہے جو کہ 10 سال کی مدت کے لئے اجارہ کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔ 200 ارب روپے کی اس پیشکش میں مالیاتی ادارے اور ملکی و غیر ملکی افراد براہ راست سرمایہ کاری کر سکیں گے

اب کچھ بات ہوجائے سٹاک مارکیٹ کی جہاں گزشتہ   ہفتے کے دوران  بھی  تیزی کا رجحان رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر342.09 پوائنٹس کا اضافہ  ہوا   جبکہ  کے ایس ای 100انڈیکس میں مجموعی اضافہ کا تناسب 1.01فیصد رہا۔

بات کریں اگر برآمدات اور درآمدات کی تو وزارت تجارت کے اعدادوشمار کے گزشتہ ماہ  چھ فیصد اضافے کے ساتھ  برآمدات   برآمدات کا حجم 2.008 ارب ڈالر تک پہنچ گیا  جبکہ   درآمدات  17 فیصد کی نمایاں کمی سے 3.982 ارب ڈالر تک  آگئیں جس سے تجارتی خسارہ کم کرنے میں کافی حد تک مدد ملی ہے ۔۔

وی این ایس ۔ اسلام آباد

Download Video