لاہور، 3 دسمبر (اے پی پی): صوبائی دارالحکومت لاہور میں 31ویں ایڈ ایشیاء کا میلہ سج گیاہے، ایڈورٹائزمنٹ دنیا کا 3روزہ میلہ الحمراء ہال میں جاری جس میں دنیا بھر سے ہزار سے زائد ایڈورٹائزنگ کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔ ایشیاء کے 30رکن ممالک میں سے 20ممالک میں اس پروگرام میں شرکت کی۔

اس موقع پر اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملائشیاء کے ایم این سی میڈیا گروپ کے سیلز اینڈ مارکیٹنگ ڈائریکٹرٹن ٹن ثمر ٹانانے کہا کہ پاکستان آ کر بہت اچھا لگااور اس طرح کے کامیاب پروگر ام ہوتے رہنے چاہئیں جس سے پاکستان کا اصل مثبت چہرہ دنیا میں جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں کاروبار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔اس طرح کے پروگرام سے پاکستان کی معیشت پر دورس اثرات مرتب ہونگے۔

ایڈ ایشیاء کانفرنس میں چین سے آنے وائے وانگ سین نے کہا کہ پاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور لاہور بہت خوبصورت شہر ہے اور ایڈ ا یشاء بہت کامیاب کانفرنس ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ثقافتی لحاظ سے ایک تاریخی ملک ہےاور پاکستان صحیح سمت پر گامزن ہے، آنے والے دنوں میں مزید کی ترقی کی راہیں کھلیں گی۔

اس موقع پر لندن سے آئے ہوئے جولین بولڈنگ نے کہا کہ پاکستان میں پہلی دفعہ آ کر بہت اچھا لگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمانہ سوشل میڈیا کا ہے اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں ڈیجٹل کمونیکیشن نے ایک خاص مقام حاصل کر لیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کو ڈیجٹل کمونیکیشن کی طرف آنا چاہئے۔

سینٹر آف گلوبل اینڈ اسٹیجک سٹڈی کے صدر میجر جنرل (ر)سید خالد عامرنے کہا کہ اے پی پی بہت اچھا کام کر رہی ہے اور اس زمانے میں جہاں پاکستان کی مثبت پہچان دنیا میں دکھانے کی ضرورت ہے وہاں اے پی پی اپنے فرائض کو بڑے احسن انداز میں پیش کر رہی ہے۔30سال بعد پاکستان ایک دفعہ پھر دنیا بھر میں مثبت خبروں میں آ گیا ہے۔اب ہمیں چاہئے کہ اس موقع پر فائدہ اٹھائیں اور پاکستان کا صحیح اور واضع چہرہ میڈیا کے ذریعے دنیا کو دکھائیں۔

سینٹر آف گلوبل اینڈ اسٹیجک سٹڈی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیفٹیننٹ کرنل (ر)خالد تیمور اکرم نے کہا کہ ایڈ ایشیاء کا پاکستان میں انقعاد ہونا خوش آئند بات ہے اور جس کا کریڈٹ تمام ایڈورٹائزنگ کمپنیزکو جاتا ہے۔

کانفرنس کے موقع پر چیئرمین جموں کشمیر ہیومن کمیشن ہمایوں زمان مرزا نے کہا کہ پنجاب کے دل اور پاکستان کے ثقافتی درالحکومت لاہور میں ایڈ ایشیاء کانفرنس 2019ء کا انعقاد خوش آئند بات ہے اور ایک بہت بڑی کاوش ہے۔ 30سال بعد ایڈ ایشیاء کی دوبارہ آمد ہوئی ہے جس میں برصغیر ایشیاء کی بڑی ایڈورٹائزنگ کمیونیکیشن کمپنیزشرکت کر رہی ہیں جو کہ بہت سود مند ثابت ہونگی۔ پاکستان ثقافت کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس طرح کے پروگرام ہونے چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ایڈ ایشیاء کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نامور شخصیات کو شرکت کرنے پر خوش آمدید کہتا ہوں اور اے پی پی ایسوسی ایٹیڈپریس آف پاکستان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اے پی پی مدر نیوز آف ایجنسی ہے۔ اے پی پی جیسے ادارے انسانی حقوق کیلئے بہت بڑی آواز ہیں۔ اے پی پی پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

وی این ایس، لاہور