لاہور، 9جون(اے پی پی) :وفاقی وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ ملت و سرسید ایکسپریس ٹرینوں کے تصادم میں 63مسافر جاں بحق اور107زخمی ہوئے جن میں 20زخمی ہسپتال میں داخل ہیں،3 زخمیوں کی حالت نازک ہے،جاں بحق ہونے والے کے ورثا کو 15لاکھ جبکہ زخمی کو50ہزار سے 3لاکھ روپے تک دیں گے،دونوں ٹرینوں کا بلیک بکس لے لیا ہے،تحقیقات میں تین سے چار ہفتے لگیں گے،ریلوے ٹریک کو فوری طور پر ٹھیک کرنے کیلئے 60ارب روپے درکار ہیں، اگر میرا استعفیٰ 63 قیمتی جانوں کا نعم البدل ہے تو دینے کو تیار ہوں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز یہاں ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلیف آپریشن میں شامل رہا اور چھوٹی سی چھوٹی چیز کو خود دیکھا،دو دفعہ ہسپتالوں میں جاکر زخمیوں کے عزیز و اقارب سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کے مروجہ قوانین کے مطابق جاں بحق کو 15لاکھ جبکہ زخمی کو 50ہزار سے 3لاکھ روپے تک اداکئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں زخمیوں کے رشتہ دار کے ساتھ ایک ریلوے افسر موجود ہے جو انکے کھانے پینے اور رہائش کے بندو بست کا ذمہ دار ہے ۔

وفاقی وزیر  نے کہا کہ وہ ہفتہ تک لاہور میں ہی ہیں اور ہرروز ریلوے افسران کے ساتھ میٹنگز کرکے ریلوے سے متعلقہ امور زیر بحث لائے جائیں گے۔

ٹرین حاد ثہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملت و سرسید ایکسپریس کا حادثہ 3:38بجے ہوا، ملت ایکسپریس کی بوگیاں اتر کر دوسرے ٹریک پر آگئیں اور دوسری جانب ایک منٹ سے کم وقت میں سرسید ایکسپر یس آگئی جس سے تصادم ہوگیا،12بوگیاں ڈی ریل ہونے سے حاد ثہ ہوا جو اس کی اصل وجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ 1990 کے بعد پاکستان میں ڈیل ریل ہونے کے باعث یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کوٹری سے لیکر خانپور تک 520کلومیٹر کا ٹریک خطرناک ہے،ٹریک 1971کا ہے جسے 20سے 25سال بعد اپ گریڈ کرنا چاہئے تھا جبکہ سلیپر 2003کے ہیں جن میں 4سے5 فیصد سلیپر خراب تھے،ریسکیو ٹرین کو بھی سٹارٹ ہونے میں 45منٹ لگتے ہیں یہ ٹرین بھی تقریبا ڈھائی گھنٹے لیٹ پہنچی اس معاملے کو بھی دیکھ رہے ہیں جو قصور وار ہوا اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارے پاس 50سالہ پرانی کوچز ہیں انہیں پرانی ٹیکنالوجی سے ہی مرمت کرتے ہیں،ملتان سے لیکر بھکر تک 5ماہ کے دوران ریلوے ٹریک کے ایک ایک انچ کا معائنہ کرچکاہوں، سکھر کا ریلوے ٹریک خطر ناک ہے کئی دفعہ اس کی نشاندہی کرچکا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جس جگہ ٹرین حادثہ ہواہے وہ 8کلومیٹر ٹریک کا حصہ مینٹین کیا ہوا تھا،خرابی کی وجوہات کم دکھائی دیتی ہیں کیوں  کہ جہاں ٹریک کمزور ہوتا ہے وہاں سپیڈ کم کردی جاتی ہے،یہ حادثہ ڈی ریل ہونے کی وجہ سے ہوا ہے ،حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنا ہے تو ٹریک کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 5ماہ کے اندر 3سے 4مرتبہ چینی سفیر سے تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں ایم ایل ون شروع کرنے کی درخواست کی گئی ، ہم نے ایم ایل ون کے اندر جو شرائط تھیں وہ بھی مان لیں اور انہیں یہاں تک کہا گیا کہ فیز ون جو خطرناک ہوچکا ہے کو پہلے شروع کردیں جس پر 2.4بلین لاگت آئے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین کا ایک کلومیٹر 60ملین ڈالر میں بنا اورٹوٹل خرچہ 1.6بلین ڈالر ہوا، اسی طرح ملتان موٹر وے کا ایک کلومیٹر 12سے15ملین ڈالر میں مکمل ہوا جس پر ٹوٹل لاگت 4بلین ڈالر آئی جبکہ 55ارب روپے لینڈ ایکوزیشن کی مد میں ادا کیئے گئے، اتنی خطیر رقم خرچ کی گئی جس سے صرف متعلقہ شہر کے مخصوص حصہ کو فائدہ ہورہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریلوے سے تو پورے ملک کو فائدہ پہنچتا ہے ، ہمیں 60ارب روپے مل جائیں تو ہم ریلوے کے ایم ایل ون منصوبہ کو شروع کر سکتے ہیں۔جائے حاد ثہ پر ریلوے افسروں کے تاخیر سے پہنچنے کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ انکوائری ہورہی ہے حتمی رپورٹ آنے پر ذمہ داران سامنے آجائیں گے ،کوتاہی کے مرتکب افسران بچ نہیں سکیں گے۔