اسلام آباد، 12ستمبر(اے پی پی ):میڈیا  آگاہی  دینے کا اہم  ذریعہ  ہے،  ہم جو  ریڈیو پر  سنتے  ہیں ، ٹی وی  پر دیکھتے ہیں اور  جو اخبارات  میں  ہم  پڑھتے  ہیں ،  وہ ہماری سوچ بناتا ہے۔ لیکن  کیا  میڈیا  اپنی   ذمہ داریاں  احسن طریقے  سے نبھاتا  ہے ؟

  آرٹیکل اے پچیس کے مطابق  پانچ سے سولہ  سال  کے تمام بچوں کی  تعلیم لازمی اور مفت فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے  ۔

تو میڈیا کی کیا ذمہ داری  ہے ؟ یہ اہم سوال  ذہن میں ابھرتا ہے۔

پاکستان  کولیشن فار ایجوکیشن  کی  کنٹری ڈائریکٹر  زہرہ ارشاد نے ایجوکیشن  بیٹ رپورٹر کی  تربیتی ورکشاپ  سے خطاب میں کہا کہ تعلیم  ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے، موجود ہ دور صحافی ، تعلیمی بیٹ کے صحافیوں  اور  میڈیا مالکان کو  بہت سے  مسائل درپیش ہیں  جس کی وجہ سے وہ اس جانب توجہ نہیں دے پا رہے  ہیں ہمیں ان مسائل کو ختم کرنا ہو گا تاکہ میڈیا  اپنا کام آزادانہ کر سکے۔

تعلیم کے حوالے سے بنائے گئے   فیڈرل ایجوکیشن  رپورٹرز ایسوسیشن کے صدر  ظفر سپرا کا کہنا ہےتھا کہ  ہمارے معاشرے میں  تعلیم  پر ویسے ہی  توجہ  بہت کم  دی جاتی ہے جبکہ  میڈیا پر تو تعلیم سے متعلق مواد نا ہونے کے برابر  ہے  اور سیاست ، کرائم  اور دوسری چیزوں کو خصوصی  توجہ حاصل  ہے

طویل عرصہ سے ایجوکیشن   کی کوریچ کرنے والے  سینئر  آصف جیلانی نے اس حوالے  سے  کہا کہ کسی بھی چینل کی  ترجیحات میں  تعلیم بیٹ شامل  نہیں ، میڈیا   مالکان کو ہمیں یہ باور کرانا پڑھے گا کہ  تعلیم  ہماری  ترجیح  ہونے چاہیے ، ہماری کوشش یہ ہونی  چاہیے کہ ہم  تعلیم خصوصاً بنیادی  تعلیم سے متعلق عوام  میں شعور    لائیں ۔

 ذہرہ ارشاد کا کہنا تھا کہ میڈیا کو تعلیم جیسے اہم موضوع  پر  پروگرامزکرنے چاہیے  اور اسے اپنے روزمرہ  کے  ائیر  ٹائم  میں خصوصی  ٹائم  دینا چاہیے  تاکہ ایک  اچھے اور روشن  مستقبل کی  بنیا د  بنائی  جا سکے ۔

سورس: وی این ایس، اسلام آباد