اسلام آباد ، 3 مارچ (اے پی پی): سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت کی بروقت اور موثر پالیسیوں کی بدولت قومی معیشت استحکام سے نمو کی جانب گامزن ہے، پاکستان جلد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آئے گا، ماضی میں سیاستدانوں کے مفادات کے ٹکراﺅ نے ملک کو نقصان پہنچایا، وزیراعظم عمران خان کا کسی سے کوئی مفاد وابستہ نہیں ہے، سب کا اس پر اتفاق ہے کہ وہ ایک ایماندار شخص ہیں۔

منگل کو قومی خبر رساں ادارے ”اے پی پی“ کے ہیڈ کوارٹر میں ایک پینل انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہر حکومت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے لئے سیاسی و سماجی مسائل کھڑے نہ ہوں ، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب بھی کرپٹ لوگوں پر قانون ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ سیاست اور جمہوریت کے پیچھے چھپتے ہیں اور اسے سیاسی انتقام کا نام دے دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے کرپشن نہیں کی انہیں کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ماضی میں خیبر پختونخوا میں اے این پی کی حکومت تھی ہم نے جمہوری طریقے سے ان کی سیاسی ٹھیکیداری ختم کی، انہیں کسی قسم کی سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا ،ماضی میں ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب تک جزا اور سزا کا قانون نہیں ہوگا تب تک معاشرہ اور ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سیشن کے دوران پروڈکشن آرڈر پر سیاست ہوتی رہی ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب ایسا ماحول بن رہا ہے جس میں ہم سب ملکر آگے بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم قانون سازی کرنا چاہتے ہیں مگر پارلیمنٹ میں ہماری عددی اکثریت آڑے آرہی ہے۔ہم نے ملک کو آگے لیکر چلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون سازی تو ہو جاتی ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ قانون پر عملدرآمد کرانے کے ذمہ دار ادارے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے گذشتہ 40 سال سے ہمارے ادارے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے عالمی سطح پر کشمیر کا مسئلہ اٹھایا جس کی وجہ سے کشمیر کاز کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں اب یہ مسئلہ بھر پور انداز میں اجاگر ہو رہا ہے۔مودی حکومت نے اپنی چیرہ دستیوں اور جبرکے ذریعے بھارت کو ایک ہندو ریاست کے طور پر بے نقاب کردیا ہے اب عالمی سطح پر بھارت کو پسپائی کا سامنا ہے۔

افغان امن معاہدے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی ثقافت کو نقصان پہنچا ہے، معیشت تو بہتر ہوجاتی ہے مگر اس صورتحال کی وجہ سے بہت سے معیشت دانوں ،اہل علم اور دانشور شخصیات کو وہاں سے نکلنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی افغانستان میں امن سے ہی وابستہ ہے اور افغانستان میں امن کے بعد پاکستان میں موجود افغان مہاجرین بھی باعزت طریقے سے اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستان کی رسائی اسی وقت ممکن ہوگی جب افغانستان میں امن ہوگا۔

ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر یہ ایک پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج تھا جسے ماضی کی حکومتوں نے سنجیدگی سے نہیں لیا ہماری حکومت نے اس مسئلے پر سنجیدگی سے کام کیا ہے اگر ہم بلیک لسٹ میں چلے جاتے تو یہ خطرناک بات ہوتی۔ بھارت پاکستان کو مستقل طور پر بلیک لسٹ میں شامل کرانے کے لئے ہتھکنڈے استعمال کرتا رہا ہے۔ 27 میں سے 14 نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے ، باقی پر بھی جلد پیش رفت ہوگی جس سے پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔ پاکستان کی معیشت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بروقت اور موثر حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں معیشت استحکام سے نمو کی طرف بڑھ رہی ہے۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں ۔اللہ تعالی کی خصوصی مہربانی ہے ۔ اس سے ہماری مشکلات میں بڑی حد تک کمی آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح 14.6 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد تک آ گئی ہے۔ آئندہ اس میں مزید کمی ہو گی۔

وی این ایس، اسلام آباد

Download video