اسلام آباد ،16ستمبر(اے پی پی ):بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکارکومقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق  بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گنگوئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مقامی اخبار کے ایڈیٹر کی جانب سے جموں و کشمیر میں پابندیاں ختم کرنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت نے حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی جلد سے جلد بحال کرنے کے لیے ہر اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان نے مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری سنگین صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالی پر دنیا کی نظریں اس مسئلے کی طرف اجاگر کروانے کی بھرپور کوشیش جاری کی ہوئی ہیں۔ پاکستانی پارلیمنیٹرینز کا یہ کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ پاکستانی قوم اور وزیر اعظم عمران خان کے موقف کی فتح ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مودی سرکار کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ انکی اپنی سپریم کورٹ  نے انکے احکامات کو غلط قرار دیا ہے ۔

پارلیمینٹرینز کا یہ بھی کہنا تھا جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے کشمیر کا مقدمہ لڑا ہے پاکستان کی تاریخ میں کوئی ایسے نہیں لڑ سکتا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنماؤں کو گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمرعبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند اور بعد ازاں گرفتارکرلیا تھا جو 40 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال زیرحراست ہیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

اے پی پی /صائمہ /حامد