اسلام آباد، 12 جنوری (اے پی پی ):پاکستان اور ترکی قریبی ثقافتی ، تاریخی اور فوجی تعلقات سے جڑے  ہوئے  ہیں ، جو اب مزید گہرے  ہوتے جارہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک اپنی معیشتوں کی ترقی کے خواہاں ہیں، دونوں ممالک  کے  درمیان  دوستانہ تعلقات  بھی ہیں ۔

کرونا  وائرس کی  وبا  سے نمٹے کیلئے پاکستان کی  طرف  سے    عالمی  فنڈ قائم کرنے کی  تجویز کو   تر کی نے سراہا  اور  اس تجویز کا  ہر  فورم  پر ساتھ  دیا  اور  اسی   طرح   دیگر   اہم عالمی    مسائل   پر  پاکستان  اور ترکی میں  ہم آہنگی  پائی جاتی ہے ۔ترکی  نے ہمیشہ   مقبوضہ  کشمیر کے معاملے میں   پاکستان کے  موقف کا  ساتھ  دیا ہے  اور   ہر عالمی  فورم     پر مقبوضہ کشمیر کی آزادی  کی  بات کی  ہے اور اس  مسئلہ  کو  بات  چیت سے حل کرنے  کی  ضرورت  پر زور  دیا ہے۔

ترکی  خطے میں  قیام امن  کیلئے  پاکستان کی کوششوں کو بھی سراہتا ہے  اور  افغان امن   عمل   سمیت   ہر مسئلے      میں   پاکستانی موقف کی  تائید کرتا رہا ہے ۔دونوں ممالک  عالمی سطح پر  مل کر  اسلاموفوبیا  جیسے   چیلنچ سے بھی نمٹ  رہے   ہیں    ،جس کیلئے  دونوں   ممالک نے مل کر  مارچ کی   15 تاریخ کو  اسلاموفوبیا  سے  نمٹنے  کے  دن کے طور پر منانے کا  بھی فیصلہ کیا ہے۔

  ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو کے  حالیہ  دورہ  پاکستان  سے   پاکستا ن اور ترکی  کے  درمیان  پائے  جانے  والے  دو طرفہ  تعلقات کو  مزید تقویت ملے گی   جس  سے   ترقی  کی  نہیں   راہیں   کھلیں  گی۔