اسلام آباد، 27ستمبر(اے پی پی ):پاکستان میں تصوف سے وابستہ ممتاز شخصیت بری امام کا مزار اسلام آباد میں مرگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔   جہاں عقیدت مند اپنی مرادیں، منتیں اور عقیدت کا اظہار کرنے آتے ہیں۔بری امام کا اصل نام سید شاہ عبدالطیف کاظمی تھا اور ان کی ولادت 1617 میں پنجاب کے علاقے جہلم میں ہوئی تھی۔

بری امام نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی اور اس کے بعد ایران، عراق اور مکہ و مدینہ کا سفر کیا، اپنے طویل سفر کے بعد انہوں نے نور پور شاہاں میں رہائش اختیار کی جہاں عوام کو امن محبت اور خدا کی وحدانیت کا سبق دیا۔اس وقت یہ علاقہ خطرناک مجرموں اور ڈاکوؤں کا گڑھ تھا۔ رفتہ رفتہ لوگ ان کے پاس فیض حاصل کرنے آتے رہےاور ان کے دل بدلنے لگے، انہیں بری امام لقب ملا جس کا مطلب ہے خشکی کا امام۔

بری امام دربار کے باہر احاطے میں یہاں آنے والے اپنی اپنی توفیق کے مطابق لنگر چڑھاتے ہیں، جس سے یہاں موجود مستحق افراد کا پیٹھ بھرتا ہے۔عرصہ دراز سے یہ لنگر صبح سے شام تک جاری ہے اور آج تک بند نہیں ہوا۔

دربار کے باہر سٹال بھی لوگوں کے زریعے آمدورفت  کا ایک بڑا ذریعہ ہے،  ان سٹالز میں دربار کے لئے چڑھاوے، کھانے پینے کی اشیاء، اور دیگر سامان موجود ہیں جو کہ لوگوں کے گھر کا چولہا ٹھنڈا ہونے نہیں دیتا۔

سن 1705 میں بری امام اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور پہلے پہل مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے آپ کا مزار تعمیر کرایا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تعمیر اور تبدیلیاں ہوتی رہیں اور آج بھی عقیدت مندوں کی بڑی تعداد یہاں عقیدت کا اظہار کرنے آتی ہے۔

اے پی پی /احسن/حامد