اسلام آباد، 15 مارچ (اے پی پی):  پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی تاریخ و آدبی ورثہ غزالہ سیفی نے کہا ہے کہ ثقافتی مقامات پر سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے بھر پور اور موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔نیشنل لائبریری میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جلد مکمل کر لئے جائے گا ۔

اے پی پی کے دورہ کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا  کہ  ڈراموں اور فلموں میں سماجی مسائل کو مناسب انداز میں اجاگر کرنا چاہئے ،ثقافتی اور موسیقی کے پروگراموں سے ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوتا ہے، خواتین کو با اختیار بنانے کیلئے ان کو کامیاب جوان پروگرام میں مساوی نمائندگی دی گئی ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ پاکستان کے کلچرل کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں ، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹ مقتدرہ قومی زبان اور اردو ڈکشنری بورڈ سمیت دیگر ادارے ملک کی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اردو ڈکشنری بورڈ نے 22والیم پر مشتمل ڈکشنری بنائی ہے جو ڈاﺅن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے ، اس ڈکشنری میں الفاظ کی درست ادائیگی کا آپشن بھی موجود ہے۔

 غزالہ سیفی نے کہا کہ سابق حکومتوں نے نیشنل لائبریری کی بہتری کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے، اب اس میں بہتری لائی گئی ہے۔ لائبریریاں تعلیم نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ، نیشنل لائبریری میں ریسرچ کی سہولت موجود ہے۔ ریسرچر کی سہولت کیلئے نیشنل لائبریری میں بڑی سکرینیں لگا رہے ہیں جبکہ اس کی ڈیجیٹلائزیشن بھی کی جا رہی ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ نیشنل لائبریری 24گھنٹے کھلی رہے۔ اس سے نوجوانوں بالخصوص ریسرچرز کو ریسرچ کی سہولت حاصل ہوگی۔

 انہوں نے کہا کہ پی این سی اے ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ، موجودہ حالات کے تناظر میں تہذیب ، اخلاق اور مذہب کی ہم آہنگی کا فروغ اہم ہے۔ حکومت مشکلات کے باوجود اداروں کی بحالی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادبیوں اور مصنفین کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ وہ تعلیم کے فروغ میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں جبکہ  ماضی میں اس حوالے سے پالیسی سازی نہیں کی گئی ۔

پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کیلئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سیاحت اور معلومات کے فروغ کیلئے سو ثقافتی مقامات کا تعین کیا گیا ہے، ہمیں اپنے ثقافتی ورثہ کو محفوظ بنانے کیلئے تعلیم کی طرح سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئے۔ ثقافتی ورثہ ماضی،حال اور مستقبل سے جڑا ہے ، مضبوط قوم بنانے کیلئے ثقافتی ورثہ کا تحفظ ناگزیر ہے، سیاحتی مقامات پر کاورباری سرگرمیوں کو فروغ دیکر ریونیو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

 غزالہ سیفی نے کہا کہ اس وقت سٹیرو ٹائپ ڈرامے پیش کئے جا رہے ہیں ، عورتوں کے عزت و وقار میں میڈیا کا اہم کردار ہے ، ماضی میں ڈراموں میں عورتوں پر تشدد دکھایا نہیں جاتا تھا لیکن اب بھونڈے طریقے سے دکھایا جا رہا ہے ، ہمیں اس سلسلے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ ڈرامے اور فلمیں سماجی مسائل پر معلومات فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے ،میڈیا کو قوائد و ضوابط کے مطابق کام کرنا چاہئے ، مارننگ شوز معلوماتی ہونے چاہئے اور سماجی مسائل کو اجاگر کرنا چاہئے ۔

  انہوں نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام میں خواتین کو مساوی نمائندگی دی گئی ہے ، خواتین سمیت نوجوانوں کو بزنس پلان پر آسان شرائط پر قرضہ دیا جا رہا ہے ،اس سے نوجوانوں سمیت بالخصوص خواتین کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں ، خواتین مختلف شعبوں میں اہم کردا ادا کر رہی ہیں۔

اے پی پی/ عمار برلاس/حامد