چترال، 20 ستمبر ( اے پی  پی ): مختلف  زبانوں کے حامل لوگ کسی بھی علاقے کی خوبصورتی  کا باعث بنتے ہیں   اور آپس میں ہم آہنگی اور مل جل کر رہنے سہنے سے علاقے کا امن و امان  بھی برقرار رہتا ہے۔

ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے زیر اہتمام تکثریت کا موقف اور  شمالی پاکستان کے محتلف قبیلوں میں ثقافتی و لسانی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے مو ضوع پر ایک روزہ سمینار  کا انعقاد کیا گیا   جس کا بنیادی مقصد چترال میں رہنے والے مختلف  زبانوں کے بولنے والے، مسلک کے حامل اور مختلف  قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک ہی جگہ جمع کرنا اور ان میں باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ اس باہمی  ہم آہنگی کی وجہ سے امن و امان، محبت اور آشتی کو فروغ ملتا ہے اور چترال میں مثالی امن کا راز اس کی  ذرخیز ثقافت میں ہے۔

سمینار میں گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے پرنسپل پروفیسر ممتا ز حسین نے  باہمی امن  میں  تاریخی  اور ثقافت   کی عام بنیادوں کی موضوع پر مقابلہ پیش کیا جبکہ  ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی  نے  تنوع  کا  چترال کے سماجی اور معاشی ترقی میں  کردار کے موضوع پر مقابلہ پیش کیا۔

کیلاش  انچارج  سید گل نے  کیلاش ثقافت کو درپیش خطرات  اور تصادم کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے  کہا کہ وہ زیادہ تر مسلمانوں کے گھرو ں میں اور بالخصوص پٹھانوں کے گھروں میں رہ چکی ہیں  مگر ان کو بیٹی اور بہن جیسا پیار  اور عزت ملی  تاہم ابھی جو سیاح وادی کیلاش کا رخ کرتے ہیں وہ ہماری ثقافتی اقدار کا خیال نہیں رکھتے اور بعض اوقات کیلاش لوگوں کو تنگ بھی کرتے ہیں۔

وادی عشریت سے تعلق رکھنے والے قاضی اسرار نے کہا کہ انہوں نے اپنے علاقے میں پلولہ زبان کو ترویج  و ترقی اور اسے برقرار رکھنے کیلئے ایک ایسا سکول کھولا ہے جو پچھلے چھ سالوں سے مقامی بچوں کو پلولہ زبان میں سبق پڑھایا جاتا ہے۔ اس سکول میں 70 طلباء زیر تعلیم ہیں۔

واخان ثقافت کے حامل وادی بروغل سے تعلق رکھنے والے  عزیز محمد نے کہا کہ واخی ثقافت کے لوگ زیادہ تر مال مویشی پالتے ہیں مگر انہوں نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود اپنی زبا ن کو زندہ رکھا ہوا ہے۔

پروفیسر شمس النظر فاطمی نے کہا کہ تعلیم سے بھی زیادہ  تہذیب کا حصول ہے اور یہی تہذیت انسان کو  انسانیت کے معراج پر پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر قبیلے کو مضبوط ہونا چاہئے اور اپنی ثقافت اور اقدار کو زندہ رکھ کر ہی اپنی حیثیت منوا سکتے ہیں کیونکہ اپنی زبان اور ثقافت کھونے سے ان کی اہمیت ختم  ہوتی ہے۔

وادی مڈگلشٹ سے تعلق رکھنے والے شیر عظیم بختاور نے کہا کہ مڈگلشٹ کے لوگ  دو سو سال پہلے وسطی ایشیاء سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوچکے ہیں جو فارسی بولتے ہیں اور ان کی فارسی تاجکستان اور بدخشان سے ملتی جلتی ہے مگر اسے قدرےمختصر  کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری زبان میں ایک مقامی ادیب سید نواز تنہاء نے چار کتابیں بھی لکھی ہیں جو خالصتاً مقامی زبان میں ہے۔

سمینار میں ہر زبان  اور مسلک کے حامل مختلف  قبائل کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جسے مقامی لوگوں نے بہت سراہا اور اس قسم کے سمینار کو بار بار منعقد کرانے پر زور دیا۔

وی این ایس،چترال