بہاول پور،22 اپریل  (اے پی پی ): جنوبی پنجاب کا چولستانی حطہ  بہاول پور کپاس کی فصل کیلئے  بہت مشہور ہے  تاہم کپاس کے فصل  پر موسمیاتی تبدیلیوں اور  محتلف بیماریوں کی وجہ سے  کاشت کار  نہایت مالی نقصان کا سامنا کرتے تھے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور  نے اس مسئلے  کی حل نکالنے کیلئے تحقیق کا آغاز کردیا ہے۔ اس جامعہ کی شعبہ ذراعت کے  قابل ترین اور محنتی  ٹیم نے دن رات محنت کرکے کپاس کے ایسے بیج متعارف کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں  جس پر سپرے کئے بغیر  بھی یہ بیماریاں  اثر نہیں کرتی۔ عبد الرحمان جو اس جامعہ کے شعبہ ذراعت میں ایسوسی ایٹ لکچرارہے  وہ اپنی کاوش سے کافی پر امید ہے انہوں نے بتایا کہ جامعہ کی کوششوں سے محتلف قسم کے بیج تیار ہوچکے ہیں۔

اس یونیورسٹی میں  ذراعت پر تحقیق کرنے کیلئے  ایک بہترین لیبارٹری بھی موجود ہے  جو جدید دور کے تمام سامان سے آراستہ ہے۔ حافظہ اشفاق جو شعبہ ذراعت کی طالبہ ہے وہ اس جامعہ کے تحقیقی کام سے کافی مطمعن ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور نے کپاس پر محتلف تجربات اور تحقیق کرنے کیلئے باقاعدہ طور پر ایسی گرین ہاؤس بنائے ہیں جہاں اس پر تیز دھوپ یا سردی آسانی سے اثر انداز نہیں ہوتی۔

وائس چانسلر انجنئیر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا کہنا ہے کہ ان کا ٹیم علاقے کو کپاس کے ذریعے مالامال کرنے کیلئے دن رات محنت کرتی ہے۔ ذراعت کو ہمارے ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثت  حاصل ہے اور پاکستان میں 75 فی صد  لوگ ذراعت پر انحصار کرتے ہیں مگر ماضی میں  ان فصلوں  پر محتلف بیماریوں  کی وجہ سے  اثرات پڑتے  اور زمیندار مہنگے ترین پیسٹی سائڈ  خریدنے پر مجبور ہوتے  اب اس جامعہ کی  کوشش سے زمیندار وں  کو اس سے نجات ملے گی اور کپاس کی بہترین فصل اس علاقے سے غربت کا حاتمہ کرنے میں  کلیدی کردار ادا کرے گی۔