اسلام آباد،5ستمبر(اے پی پی) وفاقی حکومت نے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کے بارے میں صدارتی آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کیا ہے  ، یہ آرڈیننس دراصل کیا ہے اور اسکا قومی خزانے کو کتنا فائدہ یا نقصان ہے ۔۔

گیس انفراسٹرکچر ڈویلمپنٹ سیس کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا تو اس پر گویا کہرام مچ گیا ۔۔۔

لیکن یہ جی  آئی ڈی  سی ہے کیا ؟اسی کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے ہم نے اپنی اس رپورٹ میں ۔۔۔۔

سن دو ہزار گیارہ میں سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی نے ایران گیس پائپ لائن پچھانے کے لئے گیس کے بلوں پر ایک ٹیکس لگایا جسے جی آئی ڈی سی کا نام دیا گیا ۔۔۔۔۔

اس ٹیکس کے تحت مختلف گیس کمپنیوں کے ذمے دسمبر 2018 تک 417 ارب روپے واجب الالدا تھے تاہم یہ کمپنیاں حکومتی فیصلے کے خلاف عدالتوں کے پاس پہنچ گئیں جس کی وجہ سے یہ رقم خزانے میں نا آسکی

موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کمپنیوں سے مذاکرات کئے اور انہیں آدھی رقم یعنی 217 ارب روپے خزانے میں جمع کرانے پر راضی کرلیا ۔۔۔ شرط یہ تھی کہ یہ کمپنیاں عدالتوں میں دائر مقدمات واپس لے لیں گے ۔۔

وزیراعظم ہائوس کی جانب سے جاری بیان میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،،بیان کے مطابق چونکہ مختلف کمپنیوں کی طرف سے عدالتوں سے حکم امتناعی حاصل کرنے کی وجہ سے اربوں روپے قومی خزانے میں نہیں آ رہے تھے جس کی وجہ سے عدالت کے باہر تصفیہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

میڈیا کی طرف سے تنقید کے بعد حکومت نے جی آئی ڈی سی سے متعلق اپناصدارتی آرڈیننس واپس تو لے لیا ہے تاہم اب یہ عدالتوں پر منحصرہے کہ وہ اس حوالے سے کیا فیصلہ دیتی ہیں

ماہرین کے مطابق  اگر فیصلہ حق میں آیا تو 417 ارب روپے وصول ہوجائیں گے اور اگر خلاف آیا تو جو آدھی رقم ہاتھ آئی تھی وہ بھی جاسکتی ہے ۔۔۔ وزیر اعظم نے اس حوالے سے قوم کو پہلے ہی خبردار کردیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وی این ایس اسلام آباد