اسلام  آباد ، 17 اپریل    (اے پی پی ): پاکستان کی کامیاب معاشی سفارتکاری  کے نتیجے میں    جی 20 کے  اجلاس میں  وزیراعظم عمران خان کی اپیل کو پیش نظر رکھتے ہوئے  ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت فراہم کرنے کا  تاریخی  فیصلہ کیا   گیا  جس کے تحت    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سمیت  76  ترقی پذیر ممالک کے 40 ارب ڈالرز کے قرض ایک سال کے لیے منجمد کر دیے۔

قرضوں میں دی گئی یہ سہولت کورونا وائرس کے  باعث پیدا ہونے والی   صورت حال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے  لیے    ایک انتہائی  اہم اقدام ہے جس  کے زریعے   ان ممالک کو  صحت اور معاشی مسائل   سے نمٹنے میں مدد ملے گی ۔ 40ارب ڈالرز میں سے 20 ارب ڈالرز کے قرضے سعودی عرب منجمد کرے گا ۔

آئی ایم ایف کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم کے تحت پاکستان کے 12 ارب ڈالر کے قرضے موخر ہوں گے  جن میں   آئی ایم ایف، عالمی بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، اسلامی ترقیاتی بینک اور پیرس کلب کے قرضے شامل ہیں۔

 کورونا  کے باعث   دنیا بھر  خصوصا  ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر   اثرات  مرتب ہوئے؛    برآمدات اور زرمبادلہ کی شرح کافی حد تک کم ہو رہی ہیں، جی 20 کی جانب سے  کیے   جانے والے اس   اقدام کے  باعث   پاکستان کو ملنے والی معاشی   سہولت سے  نہ صرف   پاکستان   کی معیشت کو کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ یہ اقدام     پاکستان  کی عوام  کو زیادہ سے زیادہ   سہولت  فراہم کرنے کی کاوشوں میں بھی حکومت  کے لیے مدد گار ثابت ہو گا ۔

اے پی پی /سعیدہ/قرۃالعین