اسلام آباد، 30جولائی  ( اے پی پی): حلال احمر پاکستان کے زیر اہتمام ڈپریشن اور انزئیٹی کے موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا

گیا جس میں انکی وجوہات، نشاندہی اور اسکے علاج سے متعلق آگاہی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

سیمینار میں شریک ماہرین نفسیات کا کہنا تھا کہ موبائل فون کا استعمال، کارٹون اور انٹرنیٹ کا زیادہ استعمال بچوں کو ذہنی طور پر تیز کرنے کا ذریعہ تو بنتا ہے لیکن کم عمر میں ہی ذہنی مسائل اور دباؤ کا رجحان بڑھ جاتا ہے، مذہبی کی طرف توجہ سے ان مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔

ماہر نفسیات ماریہ تنویر نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ تعلیم و تربیت کا پہلا مرحلہ گھر ہے ، اسی طرح علاج کا پہلا قدم بھی گھر ہی ہے شروع ہوتا ہے۔  والدین کا بچوں کو توجہ نا دینا ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔

ماہر نفسیات کا کہنا تھا کہ 20 سے 25 سال کی عمرکے نوجوانوں میں ڈپریشن تیزی سے پھیل رہا ہے جسکی بنیادی وجہ غیر ترقیاتی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا رجحان ھے۔

اے  پی پی /احسن /ریحانہ