اسلام آباد،14اگست(اے پی پی):  کشمیرکے معاملے پر بھارت کے غیرقانونی اقدام اور بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی لانے،بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کرنے، تمام دوطرفہ معاملات پر نظرثانی کرنے ، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے رجوع کرنے اور 14 اگست کو پاکستان کا یوم آزادی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے دن کے طور پر منانے اور 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایمنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو قبول نہیں کیا، دوطرفہ طریقے سے بھی بات کرنے کو وہ تیار نہیں، پانچ اگست کے فیصلے سے بھارت نے شملہ معاہدے پر بھی کاری ضرب لگائی ہے۔ بھارت نے یکطرفہ فیصلہ کرکے شملہ معاہدے کی روح کو نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے رجوع کرے گا۔ سلامتی کونسل کا ایک رکن چین ہمارا سٹریٹجک حلیف ہے اس سے مشاورت ہو رہی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا اور پانچ بڑے فیصلے کئے گئے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایوان کی آراء کے مطابق بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی لائی جائے گی۔ ہم بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی گلی گلی اور قریہ قریہ سے اب  یہ آواز اٹھے گی کشمیر بنے گا پاکستان۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادیوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

سورس: وی این ایس اسلام آباد