اسلام آباد، 22 نومبر(اے پی پی ):معیشت کی ترقی اور بہتری  کے لیےملکی اور غیر ملکی  سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات اور سرمایہ کار دوست ماحول  کی فراہمی کے زریعےانوسٹرز کے اعتماد کی بحالی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ کیونکہ سرمایہ کاری کے فروغ    کے زریعے ہی بے روزگاری اورغربت جیسے مسائل کو حل کر کے ملک کو   ترقی اور خوشحالی کی راہ پر   گامزن کیا جا سکتا ہے ۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ جولائی  تا  اکتوبر 2019ءکے عرصہ میں ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم  گذشتہ   191.9  ملین   ڈالر   کے  مقابلے میں   650 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 238.7 فیصد زائد ہے۔

 اس عرصہ میں چین نے پاکستان میں 122 ملین ڈالر   جبکہ    ناروے کی طرف سے پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 263.7 ملین ڈالر رہا۔ اس عرصہ میں برطانیہ نے پاکستان میں 86.8 جبکہ امریکہ نے 30.7 ملین ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی۔

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ جہاں حکومتی اقدامات  کی کامیابی کے عکاس ہیں وہیں یہ مثبت  اشاریے معیشت کی ترقی اور ملکی خوشحالی کے ایک باب کا نقطہ آغاز بھی ہیں۔

سورس:  وی این ایس ،  اسلام آباد