اسلام  آباد، 30اکتوبر(اے پی پی ): سیلز ٹیکس کے نفاذ اور شناختی کارڈ کی شرط پر حکومت اور تاجروں کے  درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں ۔کامیاب مذاکرات کے بعد بعد تاجروں اور ایف بی آر کے درمیان معاہدہ بھی  طے پا گیا ہے جس کے تحت شناختی کارڈ کی شرط پر خریدوفروخت پر تادیبی کاروائی 31 جنوری دو ہزار بیس تک موخر کردی گئی ہے جبکہ دس کروڑ  تک کی ٹرن اوور والا ٹریڈر 1.5 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے بجائے 0.5 فیصد  ٹرن اوور ٹیکس دے گا جبکہ دس کروڑ تک کی ٹرن اوور  والا ٹریڈر ہرود ہولڈنگ ایجنٹ نہیں بنے گا ۔ سیلز ٹیکس میں رجسٹر یشن کے لیے سالانہ بجلی کے بلوں کی حد بھی  6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 12 لاکھ روپے تک کر دی گئی ہے۔

معاہدے کے تحت کم منافع رکھنے والے سیکٹرز کے ٹرن اوور  ٹیکس کا تعین از سر نو کیا جائے گا گا جو تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے ہوگا۔معاہدے کے تحت جیولرز ایسوسی ایشنز کے ساتھ ملکر جیولرز کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا جبکہ آڑھتیوں پر تجدید لائسنس فیس  پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا۔

ٹریڈرز کے مسائل کے فوری حل کے لیے ایف بی آر اسلام آباد میں خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا جس میں گریڈ 20 اور  21 کا افسر تعینات ہوگا اور ماہانہ بنیادوں پر ٹریڈرز کے نمائندوں سے ملاقات ہوگی۔

معاہدے کے مطابق نئے ٹریڈرز کی رجسٹریشن اور انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے لئے اردو میں آسان اور سادہ فارم مہیا کیا جائے گا اور تاجروں کی کمیٹیاں نئی رجسٹریشن کے سلسلے میں بھرپور تعاون کریں گی۔

معاہدہ  کے مطابق  وہ  ریٹیلرز  جو ہول سیل کا بزنس بھی کررہا ہے، ان کی سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کا فیصلہ تاجروں کی کمیٹی کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

وی این ایس، اسلام آباد