اسلام آباد، 22اگست (اے پی پی): پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی پہلے ایک سال کے عرصے کے دوران حکومت کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ۔اس دوران میں اقتصادی صورتحال کی بہتری، پارلیمنٹ میں ناراض اپوزیشن، سعودی عرب سے بیل آؤٹ پیکج، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) احتجاج، یو ٹرن، دوبارہ ابھرتی دہشت گردی، بھارت سے امن کی کوشش اور سب سے بڑھ کر سادگی مہم حکومت کی اہم خصوصیات تھیں۔
اس ایجنڈے کی نمایاں خصوصیات میں وفاق کے زیر انتظام قبائی علاقوں کا خیبرپختونخوا سے جلد انضمام، پنجاب کی 2 حصوں میں تقسیم اور علیحدگی پسند بلوچ رہنماؤں سے مصالحت شامل تھی۔

اس کے علاوہ 100 روزہ ایجنڈے میں کراچی کے لیے ترقیاتی پیکج کا آغاز اور غربت کے خاتمے کے لیے پروگرام کے ساتھ ساتھ معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات بھی شامل تھے۔
وفاقی کابینہ کے 52 اجلاسوں میں طریقہ کار کے تحت کابینہ کمیٹیوں کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔ کابینہ کے 52 اجلاسوں میں 960 فیصلے کئے گئے اور 784 فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا جو کہ 82 فیصد بنتا ہے۔

کابینہ ڈویژن نے نجکاری کی کابینہ کمیٹی کے چار اجلاسوں کا انتظام کیا۔ توانائی کی کابینہ کمیٹی کے 10 اجلاسوں، حکومت کی ملکیتی انٹرپرائز سے متعلق کابینہ کمیٹی کے ایک اجلاس کے علاوہ سی پیک سے متعلق کابینہ کمیٹی کے تین اجلاسوں کے انتظامات کئے گئے۔ کابینہ ڈویژن نے قانونی مقدمات نمٹانے کیلئے قائم کابینہ کمیٹی کے 11 اجلاسوں کے انتظامات کئے جن میں 623 فیصلے کئے گئے۔ کابینہ ڈویژن کے زیر انتظام غربت کے خاتمہ اور سماجی تحفظ ڈویژن، نیا پاکستان ہائوسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی گئی۔ کابینہ ڈویژن نے نیپرا، پیپرا، پی ٹی اے اور اوگرا کے ساتھ وفاقی اداروں کے تعلقات کیلئے انتظامی خدمات مؤثر طریقہ سے سرانجام دیں۔
وزارت صنعت و تجارت نے ایک سال کے دوران ملکی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کیلئے تاجروں ، سرمایہ کاروں اور مقامی صنعتوں کی بحالی خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبہ کو مراعات دیں، آسان تجارتی اصلاحات کے ذریعے کاروبار دوست پالیسیاں تشکیل دیں اور کاروبار کرنے کے ماحول کو آسان بنایا گیا ۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں تقریب کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پرکارکردگی رپورٹ جاری کی ہے جس کے اعدادوشمار کے مطابق وزارت صنعت و تجارت نے ایک سال کے دوران اپنے اقدامات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، آسان تجارتی اصلاحات کے ذریعے تجارتی حالات میں بہتری لائی گئی ہے ۔صنعت کاروں اور تاجروں کی سہولت کے لئے خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے گئے ہیں۔حکومت نے سرمایہ کاروں کے ورک ویزا کے لئے ای سروسز قائم کی ہیں اور سرمایہ کاری بورڈ کی ویب سائیٹ کویوزر فرینڈلی بنایا گیا ہے۔

وزارت صنعت و تجارت نے مالی سال 2018-19 میں 45 ارب روپے کی ڈیوٹی ڈرا بیک سکیم جاری کی اور برآمدات کے زیروریٹڈ سیکٹرز کے لئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر دورہ امریکہ دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کی جانب اہم پیشرفت تھی، دونوں رہنمائوں کی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش سے پوری دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر پر مرکوز ہوئی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سب سے پہلے اپنی وزارت اور اس کے ذیلی اداروں میں ایک سال میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا مختصراً جائزہ پیش کیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اپنی وزارت کی ایک سالہ کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے تقریب کے شرکاء کو آگاہ کیا کہ وزارت اطلاعات و نشریات حکومت کی اہم وزارت ہوتی ہے جو حکومت اور میڈیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ آن لائن اشتہارات کا نظام متعارف کرانے جا رہے ہیں جس سے صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کا ذکر کرتے ہوئے  کہا کہ بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرنے اور پاکستان کا اصل تشخص پوری دنیا بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کو دکھانے کے لئے اس شعبے کا کردار اہم ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت اس شعبہ میں بھی ڈھانچہ جاتی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے اور غیر ملکی صحافیوں کے لئے بھی گنجائش پیدا کی جائے گی تا کہ پاکستان پر صرف تنقید نہ ہو اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں مدد ملے ۔

 صحت کارڈ پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی منشور کی تکمیل کی جانب اہم سنگ میل ہے۔ حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے صحت کے شعبہ کے انقلابی اقدامات کی مثال ماضی کی کسی بھی حکومت کے پہلے ایک سال کے اقدامات میں نہیں ملتی، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر کے 48 اضلاع میں غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والے تمام خاندان صحت سہولت پروگرام کے ذریعے علاج معالجہ کرا سکتے ہیں۔ تھرپارکر کے تمام خاندانوں اور انضمام شدہ فاٹا کے اضلاع کے لئے بھی یہ صحت سہولت پروگرام واضح کیا گیا۔ غریب طبقات کے لئے صحت انصاف کارڈ کے اجراء کا فیصلہ کیا جس کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع کے 6897000 غریب خاندانوں، بلوچستان کے 515000 خاندانوں، سندھ کے 3868316 خاندانوں خاص طور پر تھرپارکر کے 3 لاکھ خاندانوں، خیبر پختونخوا کے 1621088 خاندانوں، آزاد جموں و کشمیر کے 3 لاکھ 35 ہزار خاندانوں، گلگت بلتستان کے ایک لاکھ 26 ہزار خاندانوں، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے ایک لاکھ خاندانوںاور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے 85 ہزار خاندانوں کو صحت انصاف سہولت کارڈ کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ یہ رپورٹ صدر مملکت عارف علوی کو بھی پیش کی گئی۔

اے پی پی /سحر/فاروق