اسلام آباد، 09 جنوری (اے پی پی ):ڈائریکٹر جنرل پاکستان حلال اتھارٹی ڈاکٹر محمد طارق مسعود نے کہا  ہے کہ پوری دنیا میں حلال اشیاء کے کاروبار کا مجموعی حجم دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے جس میں ہر سال خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے۔ حلال گوشت کے کاروبار میں پاکستان اٹھارویں نمبر ہے جو گلوبل ہلال میٹ کاروبار کا تین فیصد بنتا ہے

سرکاری خبر رساں  ایجنسی  ایسوسی ایٹڈ پریس  آف پاکستان (اے پی پی )  سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں  نے کہا کہ مسلم ممالک کوحلال اشیاء کی 85 فیصد درآمدات بدقسمتی سے غیر مسلم ممالک سے ہیں جبکہ مسلم ممالک حلال کاروبار میں ترقی کرنے اور خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنے میں بہت پیچھے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک گوشت اور ان سے بنی ہوئی اشیاء جن ممالک سے درآمد کر رہے ہیں ان میں برازیل، انڈیا، آسٹریلیا ،تھائی لینڈ، کوریا اور جنوبی افریقہ سرفہرست ہیں۔

ڈاکٹر طارق نے کہا کہ پاکستان کا حلال تجارت اور کاروبار میں حصہ تقریباً 0.25 فیصد بنتا ہے لیکن دنیا میں پاکستان کے لیے حلال اشیاء کی حوالے سے اپنی برآمدات کو بہتر کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

ڈاکٹر طارق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لائیوسٹاک، ڈیری اور پولٹری کے شعبے میں ترقی کی تابناک امکانات موجود ہیں جن کا تخمینہ تقریباً پانچ سے چھ بلین ڈالر سالانہ ہے۔  لائیوسٹاک، پاکستان زرعی شعبے کا معاون شعبہ ہے جو کہ زراعت کے شعبے میں 56فیصد ویلیوایڈیشن  دیتا ہے اور ہمارے جی ڈی پی کا تقریبا گیارہ فیصد حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  دنیا میں حلال اشیاء کی طلب میں اضافہ کے باعث اس حلال گوشت  کے شعبے میں ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں، حالیہ شائع شدہ ایک رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ گلوبل حلال فوڈ مارکیٹ میں 2012_ 2016 کے دوران 4.44 ترقی دیکھی گئی اور آئندہ سال میں اضافے کی مقدار دوگنی ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان حلال اتھارٹی کی کردار کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کے بنیادی مقاصد میں حلال اشیاء کی برآمدات کو فروغ دینا ، دوسرے ممالک کے ساتھ صنعت و تجارت میں اضافہ ، بین الصوبائی سطح پر منظم روابط کا فروغ اور حلال سیکٹر کی صلاحیت میں اضافے اور تربیت کے مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ کہ اس شعبے کے فروغ کے ذریعے درآمدات کو بڑھانے کے مواقع سامنے لائے جائیں۔

وی  این ایس، اسلام آباد