اسلام آباد ، 25 فروری (اے پی پی):سرائیکی شاعری کی تاریخ بہت پرانی اور طاقتور ہے،اب نثر میں بھی رجحان بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔یہ بات سرائیکی کے معروف دانشور اور شاعر باسط بھٹی نے انڈس کلچرل فورم کی طرف سے مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقد کیے گئے میلے میں اے پی پی سرائیکی سروس سے خصوصی بات کرتے ہوئے کی ۔انہوں نے کہا کہ انڈس کلچرل فورم دوردراز علاقوں میں بسنےوالوں کے لیے ایک نعمت ہے جسے انڈس کلچرل فورم بخوبی نبھا رہا ہے ۔یہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے،ان کو سمجھنے کے مواقعے فراہم کرتا ہے ،اور اس میلے میں شرکت سے لکھاریوں میں لکھنے کاحوصلہ بڑھتا ہے۔انڈس کلچرل فورم اورمختلف تنظیموں میں بہتری آرہی ہے ،ان میلوں سے رابطے بڑھتے ہیں اور لکھنے کے حوالے سے inspirationبڑھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈس کلچر فورم سے مادری زبانوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں،اگر کسی زبان کی طاقت کا اندازہ لگانا ہو تو اس کی نثر پڑھی جائے۔اب سرائیکی میں نصابی سطح پر بھی مواقع مل رہے ہیں۔ خوبصورت نثر کے حوالے سےانہوں نے کہا کہ میرے شہر کو ایہ اعزاز حاصل ہے کہ جتنی خوبصورت نثر احمد پور شرقیہ میں لکھی جا رہی ہے وہ کہیں بھی نہیں جبکہ باقی علاقوں میں بھی نثر پر خوبصورت کام ہو رہا ہے ۔احمد پور شرقیہ میں حفیظ خان،انجم لاشاری،جہانگیر مخلص اور اس کے علاوہ نثر پر بہت خوبصورت کام کر رہے ہیں۔

وی این ایس

Download Video