اسلام آباد، 23 ستمبر(اے پی پی): شادی ہو ،  کوئی خوشی کا تہواریاعام زندگی، موقع کی مناسبت سےکم  یا ذیادہ لیکن سونے کے زیورات  صنف نازک کے سنگھار کا  اہم جزو بھی ہیں  اور  انہیں عورت کی سب کی بڑی کمزوری بھی سمجھا  جاتا ہے

 گزشتہ  کچھ عرصے سےسونے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور فیشن کے تیزی سے بدلتے رجحانات کے باعث شادیوں میں بھی  سونے چاندی  کے بجائے مصنوعی زیورات  کا رجحان تیزی سےفروغ پا رہا ہے

اب مہنگائی کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والی خواتین اورمصنوعی زیورات کاکاروبار کرنے والے  افراد  کا موقف  یہ  ہے کہ اب سونے سے بہتر منصوعی زیورات ہیں جنکا انتخاب بھی قدرے آسان ہے کیونکہ جیسے کپڑے ہوں ویسے ہی  زیوارت بآسانی اور کم قیمت پر دستیاب بھی ہوتے ہیں۔

دوسری طرف   صراف   کہتے ہیں کہ مہنگائی بڑھنےسے  مصنوعی جیولری  پہننے کا رواج  بڑھ  رہا ہے  جس سے ایک طرف تو اس   کاروبار سے منسلک ہزاروں افراد پریشانی کا شکار ہیں  تو دوسری طرف یہ پائیداری اور  سرمائے  کے طور پر بھی ایک  اچھا انتخاب نہیں ہے ۔

وی این ایس اسلام آباد