سکھر ، 16 جنوری (اے  پی پی ): سکھر بیراج پاکستان کے نہری نظام کا فخر اور دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا منفرد آبپاشی نظام مانا جاتا ہے ،پاکستان بننے سے پہلے برٹش گورنمنٹ نے سندھ کی سرزمین کو سر سبز اور شاداب بنانے کے لیے پانی کے زیاں کو روک کر دو دراز علاقوں بسنے والے انسانوں تک پانی کو بچانے کے لئے سکھر بیراج کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا ۔

 بیراج کا کام 1923 میں شروع ہوا اور نو سال کے قلیل عرصے یعنی 1932 میں مکمل ہوا ،بیراج کی لمبائی 5000 فٹ جبکہ اس کے 66 دروازے ہیں ،سکھر بیراج کو قیمتی پتھر اور اسٹیل سے بنایا گیا ہے۔

 سکھر بیراج سے دس ملین ایکڑ کا رقبہ اس کی سات نہروں کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہے ،سکھر بیراج سے رائٹ لائیو بینک سے نکلنے والی ساتوں نہروں  دادو ،رائس، کیرتھر،روڑی، نعرہ، خیر پور ایسٹ اور خیرپور ویسٹ 75 لاکھ 53 ہزار کمانڈ ایریا پر مشتمل ہے جس کی لمبائی سات سو میل سے زیادہ ہے۔ دریا میں سیلابی کیفیت کے دوران علاقے کو پانی کی سرکشی سے محفوظ رکھنا اور زرخیز زمین کو وافرمقدارمیں پانی با وقت ضرورت فراہم کرنا سکھر بیراج کی خصوصیات ہیں ۔

وی این ایس ، سکھر

Download Video