اسلام آباد، ستمبر 27 (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) منصوبوں کی رفتار اور اس پر عمل درآمد کو تیز کر دیا ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک منصوبوں سے متعلق رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جا رہا ہے تاکہ منصوبے وقت پر مکمل ہو سکیں۔

یہ بات وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی،ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے جمعہ کے روز اسلام آباد میں سی پیک منصوبوں کے 58 ویں جائزہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پرپیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی ۔ اجلا س میں ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن محمد جہانزیب خان ، سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن اور وفاقی و صوبا ئی وزارتوں اور محکموں کے اعلی حکام نے بھی شرکت کی ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک منصوبوں پر مسلسل میٹنگز کا انعقاد اس بات کا مظہر ہے کہ موجودہ حکومت سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک  فریم ورک کا دوسرا مرحلہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور معاشی و اقتصادی فوائد حاصل کرنے پر مرکوز رہے گا۔ وفاقی وزیر نے سی پیک  منصوبوں  کے نفاذ میں شامل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے مابین ہم آہنگی کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کی تکمیل سے پاکستان کی معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔

اجلاس کے دوران سی پیک  کے مختلف منصوبوں پر ایک ایک کر کے تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ سیکرٹری توانائی  نے بتایا کہ سی پیک منصوبوں کے لیے توانائی کی طلب اور رسد کا جائزہ  اکتوبر 2019  میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا یہ سٹڈی جوائینٹ ورکنگ گروپ میں پیش کی جائے گی اور آئندہ آنے والی جے سی سی کے ایجنڈا میں شامل ہو گا ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارت قانون توانائی کے مستقبل کے منصوبوں کے ٹیرف مسائل کے حل کے لیے ٹریبونل قائم کرنے کیلئے سمری بھیجے گا۔ اورنج لائن منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ پانی اور نکاسی آب کی سہولیات کا کام بر وقت مکمل کرلیا جائے گا ۔

گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ  آئندہ ہونے والے ایکنک کے  اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوگا اور چین نے اس کے لئے اضافی قرضوں کی تصدیق بھی کردی ہے۔ گوادر بین الاقوامی ہوائی اڈ ے کے حوالے سے اجلاس میں بتایا گیا  کہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 0.25 ایم جی ڈی پانی فراہم کر دیا ہے جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اس وقت تک بجلی کی متبادل فراہمی کو یقینی بناۓ گا جب تک کہ اس ضمن میں کیسکو انتظامات نہ کرلے ۔ ایس این جی پی ایل نے بتایا کہ وہ رشکئی اقتصادی زون کے لیے  گیس کی فراہمی پر فوری طور پر کام شروع کردیں گے ۔ اجلا س میں بتایا گیا کہ مطلوبہ 10 میگاواٹ بجلی کی سپلائی دسمبر 2019 تک دستیاب کردی جائے گی۔

اجلاس میں آئندہ ہونے والی  جے ڈبلیو جیز اور اس سال نومبر میں ہونے والی جے سی سی کے لیے تجاویز اور تیاریوں پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔

وی این ایس ، اسلام آباد