اسلام آباد ، 1 2فروری ( اے پی پی ): پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کا بہت حد تک انحصار پاک چائنہ اقتصادی راہداری کی کامیاب تکمیل پر ہے جس کے لئے دونوں ممالک کی حکومتیں سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں ، سی پیک منصوبوں میں  توانائی ،انفراسٹرکچر کے علاوہ  کلیدی اہمیت کا حامل  پاک ریلوے کا ایم ایل ون پراجیکٹ بھی شامل ہے  جس کی تکمیل کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ عرصہ دراز سے خسارے کا شکار ریلوے کا پہیہ اپنے ٹریک پر واپس آجائے گا ۔۔۔

سائونڈ بائیٹس ۔۔۔۔

پاکستان ریلویز کا ٹریک جو پشاور کو کراچی سے ملاتا ہے ، مین لائن ون کہلاتا ہے۔ اسے عرف عام میں ایم ایل ون کہا جاتا ہے،کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سے حویلیاں تک ، اس ٹریک کی لمبائی 1872 کلومیٹر ہے۔ اس ٹریک پر ریل گاڑی کی رفتار 65 سے  105 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے  مگر نئے منصوبے کے مطابق نہ صرف اس ٹریک کو ڈبل کر دیا جائے گا بلکہ ریل گاڑی کی رفتار 160 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی۔

٭ ساٹ (نیا ٹریک، جدید طرز کا سگنل سسٹم اور ٹیلی کام سسٹم، کراسنگ ، فلائی اورر، فینسنگ )

اس ٹریک سے کراچی سے لاہور کا راستہ 18 گھنٹے سے کم ہو کر 10 گھنٹے رہ جائے گا ۔ لاہور سے ملتان کی مسافت تین گھنٹے میں طے ہو گی۔ اسلام آباد سے لاہور اڑھائی گھنٹے میں پہنچا جا سکے گا۔ پشاور سے اسلام آباد پہنچے میں پونے دو گھنٹے جبکہ کراچی سے حیدر آباد  کا سفر صرف ایک گھنٹہ بیس منٹ پر محیط ہو گا۔

٭ساٹ (لائن کیپسٹی 34 سے 171 ٹرین، فریٹ والیم 6 سے 35 ملین ٹن سالانہ 2025 تک، کراچی کی ٹرینیں 40 سے 80)

منصوبے سے جہاں معیشت کو بے بہا فوائد  حاصل ہونگے ، وہیں 20 ہزار بلا واسطہ اور ایک 1 لاکھ 50 ہزار بل واسطہ نوکریوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

٭ساٹ (نیشنل ٹریڈ کوریڈور، نوکریاں، پرائیویٹ سیکٹر کا کردار)

 ریلوے کے ایم ایل  ون  منصوبے کی تکمیل تین مراحل میں  نو سال کی مدت میں ہوگی جبکہ  منصوبےکا ڈئزائن پاکستان ،چین اور تھرڈ پارٹی معاون کی نگرانی میں تیارکیا جا رہا ہے جس کے دو حصے ہوں گے۔

٭ ساٹ

منصوبے کی کُل لاگت 9.248 بلین  ڈالر ہے  جس میں سے  7.861 بلین ڈالر چین آسان قرضہ کی صورت میں فراہم کرے گا۔

اے پی پی / سہیل/نصیب الہی