پشاور، 20مئی(اے پی پی): خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد رحمان نے کرونا وائرس کے بارے عوام کو آگہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات عام فلو کی طرح ہی ہیں، جیسے بخار، کھانسی، زکام، سردرد، سانس لینے میں دُشواری ،یہ سب کرونا وائرس کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ایسی تمام علامات رکھنے والا مریض کرونا وائرس کا ہی شکار ہو۔ البتہ متاثرہ ممالک سے آنے والے مسافروں یا مشتبہ مریضوں سے میل جول رکھنے والے افراد میں اس وائرس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر نے وائرس کے پھیلاو بارے بتایا کہ صحت مند افراد جب کرونا وائرس کے مریض سے ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو یہ وائرس ہاتھ اور سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر خالد نے کہا کہ اسی طرح اس وائرس سے بچاو بھی ممکن ہے جس کیلئے باقاعدگی سے ہاتھ دھونا، ماسک کا استعمال، کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشو پیپر یا رومال کا استعمال یا عدم دستیابی کی صورت میں کہنی سے ناک کو ڈھانپ لینا اس وائرس سے انسان کو محفوظ بناتا ہے۔ کرونا وائرس کے مشتبہ مریض سے بغیر حفاظتی اقدامات یعنی دستانے یا ماسک پہنے بغیر ملنے سے گریز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر گھروں پر وقت گزارا جائے، سماجی فاصلہ اختیار کرکے تمام امور انجام دئیے جانے چاہیں کیونکہ سماجی فاصلہ ہی اس بیماری سے بچاو کا واحد راستہ ہے۔ نزلہ اور زکام کی صورت میں پرہجوم مقامات پر جانے سے اجتناب اور ڈاکٹر سے تفصیلی طبی معائنہ کرانا بھی اس مرض سے بچاؤ کے لیے فائدہ مند ہے۔ اسطرح کسی بھی پیچیدگی کی صورت میں خیبر پختونخوا کیجانب سے قائم کی گئی ہیلپ لائن 1700 پر کال کرکے بھی رہنمائی اور مدد لی جاسکتی ہے۔

 

اے پی پی/صائمہ حیات/حامد