اسلام آباد،08اگست(اے پی پی ):یوم آزادی  ،  وہ  مبارک دن جب  آزادی کی نعمت کے حصول کے لیے  بے بہا قربانیاں دینے والے شہیدوں  کا لہو   سبز و  سفید ہلالی پرچم کی  صورت میں ہماری آزادی کا نشان اور ہماری پہچان بنا۔

یہ  ہرا   رنگ  ہماری    شناخت   بھی ہے اور ہمارا      غرور بھی ۔  اسی لیے  ماہ اگست کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کے گلی کوچوں  میں    ہرا رنگ   اپنی بہار دکھاتا نظر آتا ہے

لیکن اس  یوم آزادی  جہاں  اس ملک سے محبت کے اظہار کے لیے ہم اس وطن  کے گلی کوچوں کو    اس سبز ہلالی پرچم سے سجا  کر اس  وطن سے ہماری  محبت کا اظہار اہم ہے وہیں    آج     اس مٹی، اس فضا  کو  ہریالی کے رنگ میں  بھی رنگے جانے کی ضرورت ہے کیونکہ   جنگلات میں ہونے والی تیز رفتار کمی نے ہمارے   ماحول کے لیے  بے پناہ  مسائل پیدا کر  دئیے ہیں  جو  ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہیں ۔

ماضی میں   ان ماحولیاتی مسائل  سے نمٹنے کو کبھی    ترجیح نہیں دی گئی جس کے باعث   آج یہ  مسئلہ  مزید  سنجیدگی اختیار کر چکا ہے ۔   موجودہ حکومت  نے   10  بلین  ٹری سونامی   پروگرام    کا آغاز بھی کر رکھا ہے  جس کے تحت  آئندہ      چار سال میں  ملک بھر میں  10 ارب درخت لگائے  جائیں   گے  کیونکہ  شجر کاری سے ہی آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیوں  جیسے مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

موجودہ   حکومت  کے اقدامات کے باعث  آج پاکستان  ترقی کی جانب گامزن ہے  لیکن  کسی بھی  بڑی  کامیابی کے لیے  عوام  کا فعال    کردار   بھی اہم ہے    آج پاکستان ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں ہم اسے ایک ایسا ملک بناسکتے ہیں جو دنیا کے لئے مثال بنے گا   اس لیے  اس  یوم آزادی  ہمارا                                                                            فرض ہے  ہے کہ ہم   بحثیت قوم مل کر اس ملک  کو ترقی دیں گے اور اسے مزید حسین  اور     شاداب   بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔

سورس: وی این  ایس، اسلام آباد