اسلام آباد،12 ستمبر(اے پی پی):جنگ ستمبر 1965 کے   ہیرو، پاکستان کا   سب سے بڑا عسکری اعزاز نشان حیدر حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے  اور جنگ ستمبر    کے واحد  سپوت، میجرراجہ عزیزبھٹی شہید  جنہوں   نے      لازوال بہادری اور   عزم و ہمت سے   دفاع   وطن کا فریضہ سر انجام  دیتے ہوئے دشمن  کو یہ    باور کروا   دیا  کہ     اس مادر  وطن کے دفاع کے لیے   اس کے    سپوت  اپنی جان کی قربانی سے لمحہ بھر بھی دریغ  نہیں  کرتے۔

ستمبر  1965 ء میں جب دشمن نے ارض وطن پر شب خون مارا تو میجر عزیز بھٹی شہید کو برکی سیکٹر پر دشمن کی پیش قدمی روکنے کا حکم ملا، قوم کا یہ بہادر سپوت دشمن کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار بن گیا اور کمال مہارت اور عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ایک قدم آگے نہ بڑھنے دیا اور    ان کے حملوں کا بہادری اور دلیری سے جواب بھی دیتے رہے۔

میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے سترہ پنجاب رجمنٹ کے اٹھائیس افسروں سمیت پانچ دن اور پانچ راتوں تک دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائے   رکھا    ۔     جب دشمن پاک فوج پر بھاری گولہ باری کر رہا تھا،  تب بھی میجر عزیز بھٹی    ہر خطرے سے بے  نیاز    ،   دشمن   کے ہر  وار کو ناکام بنانے کے لیے  مورچے سے باہر نکل کر اپنے سپاہیوں کو ہدایات دیتے   رہے۔  اسی دوران    دشمن کا    ایک گولہ ان کے سینے کے آرپار ہوگیا   اور انہوں نے مادر وطن کے دفاع میں شہادت کا رتبہ پایا۔اس معرکے میں  اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ شہید ہو کر  میجر راجہ عزیز بھٹی شہید  نے  ہمت ، قربانی اور  بہادری   کی وہ مثال قائم کی  جسے رہتی دنیا تک   سنہری حروف میں یاد کیا  جائے گا     اور دشمن کو پیغام  دیتا رہے گا    کہ پاکستان   کے  بہادر    سپوت   اپنی جان دے کر بھی    ہمیشہ  اپنی مادر وطن    کے خلاف ہونے والی ہر   کوشش کے خلاف سیسہ پلائی    دیوار ثابت ہوں گے۔

سورس:وی این ایس،اسلام آباد