اسلام آباد ، 29 دسمبر (اے پی پی): وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے تحفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق افراد کو ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جارہی ہیں، احساس پروگرام سے متعلق ایپ متعارف کرائیں گے جس میں تمام معلومات دستیاب ہوگی، کفالت پروگرام ابتدائی طور پر 15 اضلاع میں شروع کیا جائے گا، مارچ میں اس کا دائرہ کار 34 اضلاع تک پہنچ جائے گا، نادار اور مستحق افراد کی رجسٹریشن کے لئے آن لائن سروے ہوگا، حکومت احساس کفالت پروگرام کے تحت 8.6 ارب روپے اضافی خرچ کرے گی۔

قومی خبر رساں ادارے “اے پی پی” کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کا اہم مقصد غریبوں کی فلاح وبہبود اور سماجی تحفظ ہے تاکہ معاشرے کو اشرافیہ کی گرفت کمزور کر کے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی مدد کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ایسے منصوبے شروع کئے گئے ہیں جس میں مستحق طالب علموں ، دیہاڑی دار مزدوروں، غریب خواتین ، غذائیت کی کمی کا شکار ماﺅں اور بچوں ، بیواﺅں کی معاونت سمیت چھوٹے کاروبار شروع کرنے والوں کی مدد کرنا ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ احساس نشوونما پروگرام کے تحت غریب حاملہ خواتین اور بچوں کی مدد کی جائے گی تاکہ وہ غذائیت کی کمی کا شکار نہ ہوں۔ تحفظ پروگرام کے تحت مستحق افراد کی مدد کی جائے گی تاکہ وہ چھوٹے کاروبار شروع کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں تمام حکومتی اداروں اور وزارتوں کو بھی شامل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ غریب افراد کی رجسٹریشن کیلئے آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی اور ایک ٹی وی پروگرام شروع کیا جائے گا جس سے شہریوں کو بتایا جائے گا کہ اس پروگرام سے کیسے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔

معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والے افراد کو ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس ایپ متعارف کرا رہے ہیں جس میں متعلقہ معلومات دستیاب ہوگی اور مستحق افراد کو کسی بھی طرح کی معلومات حاصل کرنے میں آسانی رہے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر 216 دیہات میں قومی شناختی کارڈ کی حامل خواتین کیلئے غربت کی لکیر کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور تمام ایسی خواتین بی آئی ایس پی سے مستفید ہو سکیں گی جن کے پاس قومی شناختی کارڈ ہوگا۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ حکومت نے احساس کفالت پروگرام سے مستفید ہونے والوں کے لیے سہ ماہی دی جانے والی امداد میں 8.6ارب روپے کا اضافہ کردیا ہے۔ اس اضافے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ملک میں ناداروں اور غریبوں کو اب سہ ماہی طورپر 5ہزار کی بجائے 5500روپے دے گی۔ اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کی طر ف سے غیر مستحق 0.82ملین افراد کو امدادی فہرست میں سے نکالے جانے کے بعد اب بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 4.27ملین ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اضافہ شدہ وظیفہ 2019-20ءکی دوسری سہ ماہی سے مستحق افراد کو اکتوبر سے دسمبر 2019ءکے دورانیہ کے لیے دیا جائے گا، بی آئی ایس پی نے شراکت دار بینکوں کے ذریعے پہلی سہ ماہی کے لیے گرانٹ تقسیم کرنا شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا موجودہ حکومت ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لیے گورننس میں اہم بہتری لائی ہے۔

چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی سماجی تحفظ کا سب سے بڑا پروگرام ہے اور غریبوں وناداروں کی فلاح وبہبود اور غذا کے لیے مزید کئی شروعات اور اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سکول جانے والے  لڑکیوں کی ماؤں کو دی جانے والی مالی امداد   بڑھا کر فی سہ ماہی 1000روپے کردی ہے  اور یہ رقم مستحقین کو منتقل کی جانے والی 5500روپے کی رقم کے علاوہ ہوگی اور یہ ماؤں کو صرف اس صورت میں دی جاتی ہے جب ان کی کوئی بچی پرائمری سکول میں پڑھائی کے لیے جاتی ہو۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی سے جو لوگ نکالے گئے ہیں ان کا فرانزک آڈٹ کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ بی آئی ایس پی کے تین پروگرام ماضی میں بھی کرپشن کی وجہ سے بند ہوئے۔ کوشش کر رہے ہیں کہ غریبوں کا پروگرام غریبوں کیلئے ہی رہے۔ اس سے ایسے افراد مستفید نہ ہوں جو حقدار نہیں ہیں۔ غیر مستحق افراد جن کو نکالا گیا ہے ان کی جگہ مستحق افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی معاونت کیلئے پرعزم ہے۔

وی  این ایس،  اسلام آباد