اسلام آباد ،06  اگست   (اے پی پی ):  عید قربان کی آمد آمد ہے اور  دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی  سنت ابراہیمی کی پیروی

میں  قربانی کرنے کے لیے  جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے  ملک کے مختلف شہروں کی طرح  جڑواں  شہروں میں بھی  جگہ جگہ  مویشی منڈیاں  قائم ہو چکی ہیں، جہاں بکرے، دنبے، بیل ، گائے اور اونٹ  خریداروں کے منتظر ہیں  لیکن   گاہک اور   تاجر دونوں قیمتوں میں  اضافے اور  مہنگائی سے پریشان نظر آتے ہیں  ۔

صوبائی حکومتوں اور شہری انتظامیہ کی جانب سے  منڈیوں میں خصوصی انتظامات بھی کیے  گیے ہیں   تا کہ  خریدار اور تاجر دونوں کو سہولت فراہم کی جا سکے ۔

قربانی   کے لیے  جانوروں کی خریداری    کے لیے   بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی انتہائی پرجوش نظر آ رہے ہیں اور جلد از جلد خریداری کے لیے مصر ہیں جبکہ والدین  قیمتوں  میں اضافے اور شہری علاقوں میں جگہ کی کمی  جیسے مسائل کے باعث آخری ایک دو دنوں میں خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

جانوروں کی قربانی کے لیے قصابوں کے پاس بکنگ کرانے کا بھی آغاز ہو گیا ہے اور ان  کی نرخوں میں ہوشربا اضافے  اور نخروں نے شہریوں کو مزید پریشان کر رکھا ہے ۔  ان تمام مسائل کے حل  اور جانوروں کی قیمتیں کنٹرول میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ نمود و نمائش کے بجائے اس کو مذہبی فریضہ سمجھا جائےاور بے جانمود و نمائش سے گریز کیا  جائے ۔

وی این ایس اسلام آباد