چترال، 23 دسمبر ( اےپی پی): فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈسٹری خیبرپختونخواکے کوآرڈینیٹرسرتاج احمد خان نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کردی۔ پریس کلب میں ایف پی سی سی آئی جنرل باڈی ممبر محمد وزیر، بزنس مین سردار ولی اور کے پی ازمک کے ارباب ہارون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بزنس مین پینل کی چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی میاں انجم نثار، بی این پی سیکرٹری جنرل حاجی غلام علی، ایف سی سی آئی نائب صدر وکیپیٹل آفس انچارج قیصرخان داؤدزئی، ایف پی سی سی آئی خیبرپختونخوا بحیثت کوآرڈینیٹر خیبرپختونخوا کے چارج سنبھالنے کے بعد بنکوں سے قرض لینے پر شرخ سود14فیصدسے کم کرکے 7فیصدکردیا، نئے بارڈ سٹیشن ارندو اور شاہ سلیم چترال کھولنے کے ساتھ پاک افغان تجارت بڑھانے کے لئے کورونا لاک ڈون  کے بعد غلام خان، خرلاچی، انگوراڈہ اور طورخم بارڈ سٹیشن اپ گریڈ کرکے دوبارہ فعال کردی، ریجنل آف ایف پی سی سی پشاور کا سنگ بنیاد رکھ دیا،نئے اکنامک زون جلوزئی، رشکئی، نوشہرہ، غازی، چترال، کورونا فنڈ میں 2کروڑ فنڈ کے چیکس وزیراعظم کے حوالہ کردی، نوجوان کو ٹیوٹا سے انڈسٹری کے ضرورت کے مطابق جدید تربیت کا انعقاد ممکن بنایا، پا ک افغان تجارت فعال کرکے ٹرانسپورٹروں اور بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کردی، حطار اور گدون انڈسٹریل اسٹیٹ کے مسائل اور بجلی ٹریپ کے ساتھ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حل کردیا، کورونا وبا میں چیمبرزاور ایسوسی ایشنز پر فیسوں کا 20 فیصد کم کردیا جبکہ ہوٹلوں اور دوروں کے غیر ضروری اخراجات نہیں کیے، کورونا لاک ڈون  میں یوٹیلٹی انڈسٹری اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کا وزیراعظم پر معاف کروایا جبکہ ورکرزکو بے روزگار کرنے کی بجائے کی انڈسٹری مالکان کو حکومت سے فنڈ دلا دی۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ ایکسپورٹ امپورٹ بڑھایا، کسانوں کے مسائل حل کرکے ان کے لئے جدید ٹنل فارم  تربیت کورسسز متعارف کروائے، اضاخیل ڈرائی پورٹ کے مسائل حل کردی جبکہ ریلوے حکام سے بزنس کمیونٹی کے مال بروقت کراچی سے پشاور پہنچانے کے لئے اقدامات اٹھائی،کورونا وبائی صورتحال میں بزنس کمیونٹی کے ٹیکس ریفنڈ ایف بی آر سے ریفنڈ کرواکر بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کردی،چیئرمین نیب سے ملاقات کرکے بزنس کمیونٹی کے خلاف شکایات کروانے والے کے نوٹسسز کا سلسلہ بند کردیا اور کوویڈ 19کے باوجود ایف پی سی سی آئی ہیڈکوارٹر سمیت ریجنل آفس نے کام جاری رکھ کر بزنس کمیونٹی کے مسائل میں کوتاہی نہیں کی۔

 انہوں نے کہاکہ پاک چین راہداری روٹ (سی پیک) سے استعفادہ حاصل کرنے کے لئے خیبرپختونخوا اکنامک زون ڈیویلپمنٹ منیجمنٹ کمپنی (کے پی ازمک) کے ساتھ مل کر نئے اکنامک زون جلوزئی، رشکئی، چترال، غازی کے قیام اور بزنس کمیونٹی کو نئے انڈسٹریل اسٹیٹ میں پلاٹ الائمنٹ میں بھرپور رہنمائی کی اور نئے انڈسٹریل اسٹیٹ میں بزنس کمیونٹی کو پلاٹ الائمنٹ ودیگر حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ون ونڈآپریشن شروع کرکے صوبے بھر کے چیمبرز سے سرمایہ کاری کے لئے مشاورتی اجلاس منعقدکی، کوویڈ19کے مارچ میں نمودار ہونے کے بعد پاک افغان ٹریڈبندش اور حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے دو طرفہ مربوط کوششیں کی جائے گی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے انڈسٹری عبدالکریم خان، افغان کونسل جنرل نجیب اللہ احمدزئی، افغان کونصلیٹ کے کمرشل اتاشی محمدفواد ارش سے مل کر پاک افغان بارڈ کو ہفتہ بھر کے لئے کھولنے اور ٹرانسپورٹروں کے مسائل حل کردی ہیں اور ایف پی سی سی آئی کے پیلٹ فارم سے پاک افغان دوطرفہ تجارت بحال کردیا ہے۔

 انہوں نے کہاکہ ایف پی سی سی آئی کابینہ کی کوششوں نے کوویڈ 19لاک ڈون  میں وفاقی حکومت پر

 چھوٹے تاجروں کے بجلی کے بلزمعاف کردی۔ انہوں نے کہا کہ لوئر چترال کے علاقے چمرکن میں ایگریکلچر ایکسٹین ڈیپارٹمنٹ چترال کی طرف سے کسان فیلڈ ڈے کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں کسانوں نے شرکت کی اور پروگرام کا مقصد محکمہ زراعت کی جانب سے چترال میں نئے ٹماٹر کاشت سے کسانوں کو روشناس کرانا تھا، چترال کے پانچ ایکسچینج کو ڈی ایس ایل سے منسلک کیاگیا جس میں بونی، مستوج، مورکھوہ، تورکھوہ اور گرم چشمہ انٹرنیٹ کی سہولت سے استعفادہ کرسکیں گے جس سے طالب علم، نوجوانوں، کاروباری حضرات وحکومتی سرگرمیوں میں سہولت مل جائے گی۔، پاک افغان بارڈ سٹیشن کھولنے اور چترال سپیشل اکنامک زون اور ارندو پاک افغان بارڈ سٹیشن وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کے ساتھ تجارت کے لئے معاون و مددگار ثابت ہوجائے گا۔