اسلام آباد، 21 نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے قابل تجدید توانائی پالیسی  کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان  میں قابل تجدید توانائی کی مانگ کو دیکھتے ہوئے بین الاقوامی کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے  تیار ہیں اور اس شعبے میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی جس کے ثمرات 2021 میں نمایاں ہوں گے۔

 وفاقی وزیر نے جمعرات کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ قابل تجدید توانائی کی پالیسی ایک  انقلابی پالیسی ہے جس پر وزیر اعظم عمران خان نے خصوصی دلچسپی لی ہے اور  اس پالیسی کی سرپرستی بھی  کر رہے ہیں ۔ اس کا نفاذ بولی کے ذریعے سے ہو گا جس سے منصوبے کی قیمت میں کمی واقع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت ایل این جی کی 17.5 روپے فی یونٹ سے تیار کردہ جو بجلی لائے تھے اس کے برعکس یونٹ کا ریٹ چھ روپے ہو گیا ہے جو کہ مزید کم ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس پر سب فریقین متفق ہیں۔ تمام صوبے اس پر متفق ہیں اور اس کی سٹئیرنگ کمیٹی مرکز میں گی جب کہ صوبے اس پر عمل درآمد کریں گے اور زمین کی فراہمی صوبوں کی ذمہ داری ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف توانائی کی پیداوار  یہاں ہو گی بلکہ سولر پینل اور ونڈ ٹربائن کی صعنت کاری بھی پاکستان میں ہو گی۔پاکستان کی معیشت میں بہتری آئے گی، بجلی کے نرخوں میں کمی واقع ہو گی اور مستقبل میں 75 فیصد توانائی ملکی وسائل سے پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گیس اور تیل کی درآمدات میں بھی کمی واقع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی 40 ارب ڈالر کی مارکیٹ ہے۔ اس منصوبے میں نجی کمپنیاں سرمایہ کریں گی۔ اس منصوبے میں جاپان خود سرمایہ کاری کر رہا ہے اور امریکہ سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ڈینمارک اور چین کی کمپنیاں یہاں آ کر سرمایہ کاری کریں گی۔

عمر ایوب نے کہا کہ سعودی عرب کی کمپنی ایکوا ، بلوچستان میں 500 میگاواٹ کی پیدا وار کے لیے چار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔جن  12 کمپنیوں کو حکومت نے بند کر دیا تھا ، اب انہیں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہےاور سرمایہ کاروں کا تاتنا بندھا ہوا ہے۔

  انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے زرمبادلہ ملک سے باہر نہیں جائے گا، روپے کی قیمت بہتر ہوگی اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 12 سے 14 مہینے میں سرمایہ کاری کا آغاز ہو گا اور ااس کے ثمرات 2021 کے بعد نمایاں نظرآئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کی پیداوار سے صنعتوں کو بے پناہ فائدہ ہو گااور پیداوار بڑھے گی جس سے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

وی این ایس اسلام آباد

Download Video