اسلام آ باد ، 26 جولا ئی (اے پی پی ): پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بر سر اقتدار آئی تو جہاں بہت سے مسائل حل طلب تھے وہاں لیگل ریفارمز بھی ایک بہت بڑا چیلنج تھیں۔وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف نے اس حوالے سے خصوصی اقدامات کئے اور وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے  لیگل ریفارمز کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کیا تا کہ معاشرے کو کرپشن سےآزاد کیا جا سکے اور  انصاف کے حصول کا عمل آسان ، کم خرچ اور تیز بنایا جا سکے۔

ان لیگل ریفارمز کے تحت وراثت میں حق کے حصول سمیت خواتین کے دیگر حقوق کے تحفظ کو  بھی یقینی بنانے کے لیے  خصوصی قوانین متعارف کروائے گئے جیسا کہ انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس بل جس کا مقصد انہیں جائیداد کی ملکیت سے غیر قانونی طور پر محروم رکھنے کے خلاف ویمن محتسب کے پاس شکایات کا حق حاصل ہو گا۔

دیوانی مقدمات جلد نمٹانے کے لیے بھی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ ان قانونی اصلاحات کے نتیجے میں سول مقدمہ دو اڑھائی سال میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔ ان بلز میں کوڈ آف سول پروسیجر ترمیمی بل اور لیگل ایڈ و جسٹس اتھارٹی بل شامل ہے جس کے تحت معاشرہ کے غریب طبقات کو قابل رسائی، قابل برداشت اور مستند قانونی معاونت مل سکے گی۔

 اس کے علاوہ   وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ ویجیلنس کمیشن  بھی تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا مقصد کرپشن یا دیگر جرائم کی نشاندہی کرنے والوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ انکو انعام سے  بھی نوازا جائے گا۔

 سرکاری ملازمین کے سروس معاملات میں انصاف کے حصول کے عمل کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے   جس کے لئے سروس ٹربیونل ترمیمی بل  پیش کیا گیا ہے -بیرون ممالک سے دوطرفہ قانونی معاونت کے معاہدوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے  میوچل لیگل اسسٹنس بل متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ بل گذشتہ نو سال سے التوا کا شکار رہا ہے۔

اراکین پارلیمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات بھلا کر ان اصلاحات میں حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ عام آدمی کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

آسان، سہل اور جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان مقاصد کے حصول میں کس حد تک کامیاب ہو سکتی ہے۔

وی  این ایس، اسلام آباد