اسلام آباد، 17 دسمبر ( اے پی پی):قلعہ روات کے نام سے مشہور عمارت دراصل ایک سرائے ہے جو کہ جرنیلی روڈ کے ساتھ مسافروں کی سہولت اور سرکاری اہلکاروں کے ٹھہرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ اس کا فن تعمیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ قلعہ نما سرائے پندرہویں صدی کے اوائل میں سلاطین غ کے زمانے میں تعمیر ہوئی۔ تاریخی کتب میں یہ بھی ملتا ہے کہ یہ قلعہ سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود کے ساتھ بھی منسوب رہا۔ جس کا زمانہ 1036ء ہے۔ ان سے منسوب کہانی ہے کہ ان کے باغی فوجیوں نے ان کو اس قلعہ سے گرفتار کیا اور ٹیکسلا کے قریب ایک قلعہ گڑی میں لے جا کر قتل کر دیا۔

 بعد میں یہ عمارت پوٹھوہار کے مشہور حکمران سلطان سارنگ کے قبضے میں آئی۔ سلطان سارنگ پوٹھوہار کے طاقتور حکمران گزرے ہیں۔۔۔۔ اتنے طاقتور کہ انہوں نے شیر شاہ سوری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں اس سرائے کا صحن قبرستان بن گیا۔ ۔آج بھی قلعہ کے صحن میں ہر جانب قبریں نظر آتی ہیں۔ جن میں سے ایک قبر سلطان سارنگ خان کی ہے۔

قلعہ تقریباً مربع شکل کا ہے جس کی دفاعی فصیل کے ساتھ ساتھ سلسلہ وار کمرے بنے ہوئے ہیں جو کہ نہ صرف سرائے کی انفرادیت اور خوبصورتی کا باعث ہیں بلکہ اس جگہ کے ماضی کے کاروانوں کی آرامگاہ ہونے کی نشاندھی بھی کرتے ہیں۔

عمارت کا  ایک حصہ مسجد ہے جہاں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہےاور اہل علاقہ کی بڑی تعداد نماز کی ادائیگی کے لیے یہاں آتی ہے۔ یوں یہ سرائے صبح سے شام تک بارونق رہتی ہے۔

عمارت کے اردگرد کا سرسبز خوبصورت علاؤہ پوٹھوہار کی روایتی۔ خوبصورتی کی جھلک پیش کرتا ہے۔ یہ قلعہ نما سرائے اونچے مقام پر تعمیر ہے جو دفاعی لحاظ سے بہت موزوں ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ  وفاقی حکومت نے اس تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں جن پہ  عمل درآمد جاری ہے۔

اگرچہ یہ تاریخی عمارات تا حال صرف مقامی لوگوں کی آمد و رفت اور شام کے فارغ اوقات گزارنے کی جگہ ہے۔ اس کو محفوظ کر کے اور مناسب تشہیر اور انتظامات سے نہ صرف اس کی قدیم خوبصورتی محفوظ ہو سکتی ہے بلکہ یہ  بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی باآسانی بن سکتی ہے۔ وفاقی دارلحکومت میں آنے اور رہنے والے ملکی اور غیر ملکی شخصیات صرف چالیس منٹ کی مسافت پر موجود اس عمارت سے تاریخ کے کچھ ورق پلٹ کر محظوظ ہو سکتے ہیں۔

وی این ا یس، اسلام آباد