اسلام آباد،10جون  (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات شوکت ترین نے کہاہے کہ مالی  سال   2020-21  میں  شرخ   تبادلہ   کو   بڑھا کر  قرضوں  کے  محدود کیا   گیا، گزشتہ  سال  کل  قرضے 36  ٹریلین ، اس سال 38 ٹریلین  روپے  رہے۔

جمعرات کویہاں قومی اقتصادی سروے 2020-21 کے اجرا کے موقع پر وفاقی وزیرمخدوم خسروبختیار،مشیرتجارت عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹرثانیہ نشتر، اورمعاون خصوصی ریونیو ڈاکٹروقار مسعودکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت کے اولین دنوں میں ہمارامالیاتی خسارہ بہت بڑھ گیاتھا، حسابات جاریہ کے کھاتوں میں 20 ارب ڈالرکاخسارہ تھا، اسلئے شرح سود اورایکسچینج ریٹ بڑھانا پڑا، اس کی وجہ سے قرضوں کی مد میں پہلے سال اضافہ ہواتاہم اب اس میں کمی آرہی ہے، اس سال مارچ کے آخر تک مجموعی قرضہ 38ٹریلین روپے تھا، جس میں  25 ٹریلین روپے کا قرضہ مقامی اورساڑھے 12 ٹریلین روپے کاغیرملکی قرضہ شامل ہے۔انہوں  نے کہا کہ  جاری مالی سال میں قرضوں میں صرف 1.7 ٹریلین کا اضافہ ہواہے، جو پیوستہ سال کے مقابلہ میں کم ہے، سال 2019 میں قرضوں میں 3.7 ٹریلین کااضافہ ہواتھا، رواں سال بیرونی قرضہ گزشتہ سال کے مقابلہ میں 700 ارب روپے کم ہے۔جون 2020 میں غیرملکی قرضہ 13.1 ٹریلین روپے تھا جو اب 12.5 ٹریلین کی سطح پرہے۔پاکستان نے عالمی بانڈ مارکیٹ میں کامیابی سے قدم رکھے ہیں اور2.5 ارب ڈالرکے بانڈز جاری ہوئے،۔