بہاو لپور، 16 اپریل (اے پی پی ):جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا ضلع بہاول پور جو ماضی میں ایک آزاد ریاست تھی یہ ضلع اپنے تاریحی محلات او ر قلعوں کیلئے  ملک بھر میں مشہور ہے۔  ان محلات میں  نور محل کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ یہ محل 1872 میں  نواب عدنان عباسی چہارم نے اپنی ملکہ کیلئے تعمیر کروانا شروع کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ  نواب عدنان کی زوجہ  اس محل میں صرف ایک رات رہی اور مزید یہاں رہنے سے انکار کیا کیونکہ اس نے محل کے چبوترے سے  متصل قبرستان کا منظر دیکھا تھا۔ اس  کا ڈیزائن ہینان نامی انجینئر نے تیار کیا تھا۔ اس محل کی حاص بات یہ ہے کہ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میں میٹیرل اور بعد میں فرنیچر انگلینڈ اور اٹلی سے منگوایا گیا تھا۔

یہ محل تین سال کے عرصے میں 1875 کو مکمل ہوا۔  نور محل 44600 مربع فٹ احاطے پر واقع ہے  اس محل میں 32 کمرے ہیں اور 14کمرے زیر زمین بیسمنٹ میں بھی ہیں اس کے علاوہ یہاں چھ برآمدے اور پانچ مینار بھی موجود ہیں، نور محل اسلامی طرز تعمیر کی بہترین شاہکار ہے۔ نواب محمد بہاول خان پنجم نے 1906 کو اس محل میں ایک مسجد بھی شامل کیا۔

1956 کو جب ریاست بہاول پور پاکستان کے ساتھ مدغم ہوا تو اس محل کو محکمہ اوقاف نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ 1971 کو یہ محل پاک فوج کے حوالہ کیا گیا جو تاحال ان کے پاس ہے۔ اس محل کو دیکھنے کیلئے دور دراز سے سیاح یہاں کا رح کرتے ہیں۔

 لاہور سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ظفر اقبال سندھو کا کہنا ہے کہ یہاں آکر انسان چند لمحوں کیلئے ماضی میں گم ہوجاتا ہے اور دیکھنے والوں کیلئے ماضی کی دریچے کھولتے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں شعبہ مطالعہ پاکستان کے چئیرمین پروفیسر ڈاکٹر آفتاب حسین گیلانی  بہاول پور کو ایک تاریحی شہر قرار دیتے ہیں۔

ڈیڑھ سو سال پرانی  یہ محل  اسلامی طرز تعمیر کی بہترین عکاسی کرتی ہے  جو نہ صرف  ہمار ے محسنوں  کی یاد ہمیں دلاتا رہتا ہے بلکہ جدید دور میں تعمیراتی کام سے وابستہ  افراد اور کمپنیوں کیلئے بھی سبق آموز محل ہے  جس کی تعمیراتی کام نہایت ایمانداری سے ہوا تھا اور یہی وجہ ہے کہ یہ محل آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے۔

ا