اسلام آباد ،  27دسمبر ( اے پی پی ):  اردو اور فارسی کے ممتاز شاعر مرزا غالب کا 222 واں یومِ ولادت آج منایا جارہا ہے۔

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

مرزا غالب ستائیس دسمبر 1979کوآگرہ  میں پیدا ہوئے اور آپ کے والد کا نام عبداللہ بیگ اور والدہ کا نام عزت النسا بیگم تھا۔ 13 برس کی عمر میں آپ کی شادی امراؤ بیگم سے ہوئی لیکن غالب کی کوئی اولاد بھی پیدائش کے بعد جانبر نہ رہ پائی۔ ان سانحات کا غالب کی طبعیت پر گہرا اثر ہوا اور اس کا رنگ شاعری میں بھی ٍنمایاں رہا۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جا تا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں۔

آپ کا پورا نام مرزا اسداللہ بیگ تھا اور غالب تخلص تھا لیکن اپنے نام اسد کوبھی انہوں نے بعض غزلوں میں بطور تخلص استعمال کیا ہے۔

غمِ ہستی کا اسد کس سے ہو جزو مرگ علاج۔

شمع ہر رنگ میں  جلتی ہے سحر ہونے تک

مرزا غالب کی شاعری میں انسانی معاملات، نفسیات، فلسفہ، کائناتی اسلوب اور دیگر موضوعات ملتے ہیں۔ وہ کائنات کی وسعت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ

سبزہ و گل کہاں سے آئے

ابر کیا چیز ہے ، ہوا کیا ہے

عاشقانہ مضامین کے اظہار میں بھی غالبؔ نے اپنا راستہ نیا نکالا ،شدت احساس نے ان کے تخیل کی باریک تر مضامین کی طرف رہنمائی  کی

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

مرزا اسد اللہ خان غالب نے دیوان کے ڈھیر لگانے کے  بجائے بہترین شاعری کے حامل چند ہزار اشعار کہے ہیں اور مرزا غالب کے خطوط کو ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔

غالب کی شاعری اور نثر نے اردو ادب پر گہرے نقوش چھوڑے اور انہوں نے فارسی اسلوب کے علاوہ سنجیدہ اور سلیس زبان میں بھی نہایت گہرے اشعار پیش کیے۔ غالب زندگی بھر تنگ دستی اور غربت کے شکار رہے۔

فساد، شورش اور غارت گری کے سارے واقعات خود مرزا غالب نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور شدید غمگین  رہے۔ 15 فروری 1869ء میں مرزا غالب اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جاملے۔

غفلت کفیل عمر و اسدؔ ضامن نشاط

اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے

  اے  پی پی/احسن /قرۃالعین