اسلام آباد،23مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا عوام سے وعدہ ہے کہ مہنگائی کم کریں گے، حکومت جامع اور پائیدار اقتصادی شرح نمو کے حصول کیلئے برآمدات اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے سمیت طویل اور مختصر مدت کی منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کر رہی ہے، رواں مالی سال کے دوران معاشی اشاریے 3.94 فیصد کی اقتصادی ترقی ظاہر کر رہے ہیں مگر بد قسمتی سے ان اعداد و شمار کو متنازعہ بنانے کیلئے دیدہ دانستہ کوششیں کی گئیں، معاشی نمو کے اعشاریہ بلکل درست ہیں، زراعت،ہاؤسنگ،  برآمدای صنعت اور عام آدمی کی ترقی پر توجہ مبذول کر لی گئی ہے جبکہ بجلی کے ٹیرف میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

اتوار کو میڈیا بریفنگ میں وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو شوکت ترین نے کہا کہ جب حکومت اقتدار میں آئی تو ملک کا مالیاتی خسارہ 20 ارب ڈالر سے زیادہ تھا اور زر مبادلہ کے ذخائر انتہائی کم تھے، سخت شرائط کے باوجود مجبورا  آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، حکومت کی کامیاب پالیسیوں کے باعث معاشی استحکام اور اقتصادی ترقی ہوئی، معاشی شرح نمو کی اگر یہی رفتار جاری رہی تو آئندہ مالی سال 2022 میں 5 فیصد اور مالی سال 2023 تک 6 فیصد پلس سے زیادہ کی اقتصادی شرح نمو کے حصول کی توقع ہے، قومی معیشت کے 12 مختلف اور اہم شعبوں کیلئے مختصر اور طویل مدتی حکمت عملی وضع کی جا رہی ہے۔

 انہوں نے کہا ہے کہ رواں مالی سال21-2020 کے معاشی اعدادوشمار کے مطابق جاری مالی سال کے دوران پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 3.94 فیصد بڑھی ہے لیکن اس کو متنازعہ بنانے کی ناکام کششیں کی گئیں جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ ادارہ برائے شماریات منصوبہ بندی کمیشن کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ اعدادوشمار پلاننگ کمیشن کے ہیں، وزارت خزانہ کے نہیں ہیں۔

 وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ  اووسیز پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے خصوصی محبت کرتے ہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے کی جانے والی ترسیلات زر میں اضافہ کے سبب معیشت کو سہارا ملا ہے تاہم جب تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات نہیں بڑھیں گے تب تک مشکلات رہیں گی۔

وزیر خزانہ نے  کہا کہ زراعت کے شعبہ کی ترقی اور فروغ کیلئے متعدد قلیل المدتی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کا قوم کے ساتھ وعدہ ہے کہ اس مہنگائی کو ختم کرنا ہے۔ آئی ایم ایف نے اس مرتبہ پاکستان کیساتھ سخت رویہ اپنایا اور کووڈ- 19 بھی ملکی معیشت پر اثرا انداز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کووڈ-19 کے حوالہ سے دانشمندانہ اور بہتر پالیسیوں کی وجہ سے ہماری معیشت کا زیادہ نقصان نہیں ہوا کیونکہ ہم نے مکمل شٹ ڈاؤن نہیں کیا جس کی وجہ سےمعاشی پہیہ گردش میں رہا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری دوسری ترجیح پائیدار معاشی ترقی ہے تاکہ روزگار کی فراہمی اور وسائل آمدنی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے  کہا کہ معاشرہ کے غریب طبقات بھی اس ملک کے شہری ہیں اور ان کو بھی گھر، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات دستیاب ہونی چاہئیں۔ انہوں نےکہا کہ ہم معیشت میں بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں، حکومت عام آدمی کی فلاح و بہبود کے اقدامات سے بڑا انقلاب لائے گی،معیشت کی بحالی کیلئے جامع اقدامات کر رہے ہیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے  کہا کہ  جون کے اوائل میں وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا، امید ہے کہ جون تک فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈیز میں کمی لا رہے ہیں جبکہ  گردشی قرضے میں کمی لانے کیلئے کوشش کر رہے ہیں، دوسری جانب ریونیو بڑھانے کیلئے بھی جامع پروگرامز لے کر آ رہے ہیں جس سے مالیاتی خسارہ کو کم کرنے اور نجی شعبہ کو قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہو گا۔