اسلام آباد،1 جنوری (اے پی پی): مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے فوجی محاصرہ کے ایک سو پچاس دن پورے ہونے پر کل جماعتی حریت کانفرنس نے اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور عالمی برادری کو ایک تحریری یاد داشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر ہونے والے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیا جائے۔

بدھ کو کل جماعتی حریت کانفرنس اسلام آباد کے زیر اہتمام یہاں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مظاہرہ سے کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے کنوینر سید فیض نقشبندی، میر طاہر مسعود، امتیاز وانی، ایڈوکیٹ پرویز، سردار صدیق، نجیب الغفور، عبدالمجید ملک، زاہد ستی اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔

مظاہرین نے مقبوضہ کشمیر میں جاری صورت حال پر بے بسی اور تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک سو پچاس دن ہوگئے ہیں، مقبوضہ کشمیر کی پوری آبادی کو بھارتی حکومت نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ شدید سردی میں کاروبار زندگی بند ہے۔ بچوں کی تعلیم معطل ہے۔ انٹرنیٹ، فون، سڑک اور ہر طرح کے رابطے منقطع ہیں لیکن عالمی برادری کا ردعمل حوصلہ افزا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کے اقدامات پر تنقید تو ہو رہی ہے لیکن مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بھاریت فوج گھروں میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتی ہے، نوجوانوں کی گرفتاریوں، خواتین کی توہین، بزرگوں پر تشدد، املاک کو تباہ کرنے اور ہر طرح سے ناقابل بیان نقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔

مظاہرین نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ریاستی ڈھانچے میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں کی بین الاقوامی قوانین کے ساتھ متصادم ہونے کی بنیاد پر نوٹس لے۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے دفتر میں یاد داشت بھی بیش کی گئی۔

وی این ایس اسلام آباد

Download Video