اسلام آباد ، 27 جنوری (اے پی پی): بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا ہے تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہئے، بیرونی ممالک سے امداد بند ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی مالی مشکلات کا شکار ہے، ملک میں عالمی معیار کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لئے اساتذہ اپنا کردارا ادا کریں،یونیورسٹی میں تعلیم کے معیار کی بہتری اور فروغ کے لئے حکومت سے اڑھائی ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری لی ہے، پالیسی سازی میں ماہر تعلیم کو شامل کرنے سے ملک میں انقلاب اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔

 پیر کو اے پی پی  ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ یونینز کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنا اور آنے والی نسلوں کے لئے معیاری تعلیم کا فروغ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہماری یونیورسٹی میں بھی طلبہ یونینز کے مابین ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جس میں مجھ پر الزامات لگائے گئے کہ میں لسانیت و عصبیت کو فروغ دینا چاہتا ہوں، میں ان الزامات کو مسترد کرتا ہوں، میرے لئے یونیورسٹی کے تمام طالبعلم یکساں حیثیت رکھتے ہیں، میں تمام طالبعلموں کے روشن مستقبل کے لئے دعا گو ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس ناخوشگوار واقعہ کی روپورٹ یونیورسٹی کے صدر کی وطن واپسی پر پیش کردی جائے گئی کیونکہ یونیورسٹی کے تمام امور کا مکمل اختیار صدر کے پاس ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ ہماری یونیورسٹی بین الاقومی معیار کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لئے کوشاں ہے اور یہاں 3ہزار سے زائد غیر ملکی طالب علم زیر تعلیم ہیں اور ہم ان کی تعداد کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔اس کے علاوہ 53 غیر ملکی اساتذہ بھی یہاں پر پڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک سے یونیورسٹی کو امداد بند ہونے کی وجہ سے مالی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ 11/9کے واقع کے بعد بین الاقوامی سطح پر کسی کی مالی معاونت کرنا پیچیدہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے وزارت خزانہ کو ایچ ای سی کے مالی معاملات کو فوری طور پر حل کرنے کی ہدایت کی تھی اور ہم پرامید ہیں حکومت ترجیح بنیادوں پر تعلیمی مسائل حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی اراضی پر سی ڈی اے کا قبضہ چھڑانے کے لئے ہم نے عدالتی راستہ اختیار کیا جس میں سی ڈی اے نے متبادل جگہ پر اپنا پلانٹ شفٹ کرنے کی مہلت مانگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یونیورسٹی کے میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز کے طالبعلموں کی عملی تربیت کے لئے اے پی پی کے ساتھ ملکر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت میڈیا کے شعبہ سے منسلک زیر تعلیم طالبعلموں کو بہتر رہنمائی حاصل کرسکیں اور اس حوالے سے اے پی پی اور یونیورسٹی کا شعبہ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز مشترکہ پروگرام طے کریں جس کی منظوری کے لئے میں یونیورسٹی کے بورڈز سے سفارش کروں گا۔

وی این ایس ، اسلام آباد