کوئٹہ،05اگست ( اے پی پی ): ترجمان حکومت بلوچستان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کشمیر ایشو پر دو ٹوک موقف رکھتی ہے ،مودی سرکارکا کشمیر ی عوام کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنامذموم مقاصد کا عکاس ہے ،مہذب ممالک بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیں۔

قومی  خبر رساں  ایجنسی  “اے پی پی نیوز”سے بات چیت کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان نے کہا کہ 5اگست 2019انسانی تاریخ کا وہ تاریک دن تھا جس میں بھارت نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے لاکھوں کشمیریوں کوان کی خصوصی آئینی حیثیت سے محروم کردیا ،اس غاصبانہ اور غیر قانونی اقدام سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہوگیا ،بھارت سمجھتا ہے کہ وہ بلوچستان میں مداخلت کرکے یہاں کے لوگوں کو ریاست سے منحرف کردے گاتاہم ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگ بھی اتنے  ہی  محب وطن   ہیں جتنے باقی صوبوں کے لوگ ہیں اور یہاں کا کوئی بھی محب وطن بلوچستانی بھارت کی مکروہ چالوں میں نہیں آئے گا۔

انہوں نے  کہا کہ بلوچستان حکومت نے وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت5اگست 2019کے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے ماضی میں بھی احتجاجی جلسوں کا اہتمام کیا ،ان احتجاجی جلسوں میں عوام کا جم غفیر اور بھارت کے خلاف نفرت بلوچستان حکومت کی جانب سے مودی سرکاری کی فاشسٹ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے جس کی باز گشت بھارت سرکار کو آج بھی سنائی دے رہی ہوگی، بلوچستان حکومت نے بھارت کے کشمیر محاصرہ کے خلاف بھرپور احتجاج کے لیے مربوط پروگرام تربیت دیا ہے تاکہ دنیا کو بھارت کے اس غیر آئینی اور غیر انسانی اقدام سے آگاہ کیاجاسکے ۔

اے پی پی / محمد بلال اعوان /حامد