اسلام آ باد ، 11 ستمبر ( اے پی پی ): نم   مرطوب موسم    اور   عوام  کے   غیر ذمہ دارانہ رویے مچھروں خصوصا   ًڈینگی    کی افزائش  کا   باعث   بنتے   ہیں جس کے نتیجے میں   اس  سال بھی  ملک بھر  میں خاصی تعداد میں  لوگ    ڈینگی  سے متاثر ہو  رہے ہیں  ۔

ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے جو    گھریلو واٹر کولر، ٹینکوں کے قرب و جوار، صاف پانی سے بھرے برتنوں، پودوں کے گملوں، غسل خانوں اور بارش کے صاف پانی  میں   پلتا   ہے ۔   ڈینگی وائرس پھیلانے والی مادہ مچھر 22ڈگری سینٹی گریڈ سے کم    درجہ حرارت میں انڈے نہیں دیتی جس کی وجہ سے  اس موسم میں   ان مچھروں کی افزائش کا عمل رک جاتا ہے، تاہم ان مچھروں کے دیے جانے والے انڈے محفوظ رہتے ہیں اور اپنی نسل کی افزائش کے لیے بہترین موسم کا انتظار کرتے ہیں، اگست سے دسمبر تک ان مچھروں کے انڈوں سے تیزی سے افزائش ہوتی ہے۔

ایک اندازے  کے مطابق  دنیا بھر میں دس کروڑ سے زائد افراد ہر سال ڈینکی سے متاثر ہوتے ہیں تاہم بروقت علاج سے اس مرض سے صحت یابی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور 99 فیصد مریض اس سے مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتے ہیں  یعنی ایک فیصد سے بھی کم لوگوں میں یہ مہلک شکل اختیار کرتا ہے۔

ملک بھر کی طرح   وفاقی دارالحکومت   کے تمام ہسپتالوں میں ڈینگی  کے علاج کے حوالے سے علیحدہ ڈینگی وارڈز قائم کئے گئے ہیں جبکہ  مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے  ۔ اس  کے علاوہ   ڈینگی کی روک تھام  کے لیے  مچھروں کی افزائش کی جگہ کی نشاندہی کرکے سپرے کا عمل شروع کیا جاچکا ہے اور   اس مرض  سے بچاو کے لیے    عوام میں   آگاہی   اور   شعور بیدار کرنے کے لیے بھی خصوصی اقدامات  کیے جا رہے ہیں ۔

حکومتی اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں   لیکن     ڈینگی وبا کا مقابلہ کرنا صرف حکومتوں کے لیے ممکن نہیں بلکہ اس عمل میں عوامی شراکت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ۔ اگر ہم اپنے ارد گرد ماحول کی صفائی کا خیال رکھیں تو اس سے نہ صرف ہم ڈینگی بخار بلکہ بہت سی دیگر بیماریوں سے بچ سکتے ہیں بلکہ  اپنے ارد گرد کے   لوگوں کو بھی   ڈینگی اور دیگر کئی   مہلک امراض  سے   بچا کر    ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا  کر سکتے ہیں  ۔

وی این ایس ، اسلام آباد