چترال،30 ستمبر ( اے پی پی): وادی کیلاش بمبوریت گاؤں کے میں چلغوزہ اتارنے کے اوزار تقسیم کئے گئے۔ ان سامان کے ساتھ نہ صرف مقامی لوگ درخت  سے گرنے سے محفوظ ہوں گے بلکہ چلغوزے کے درخت بھی محفوظ رہے گا اور چلغوزہ اتارتے وقت درخت کی شاحیں اور ٹہنیاں اب نہیں ٹوٹیں گی۔

چلغوزہ کٹ  اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک اور ذراعت کے مالی تعاون سے وفاقی حکومت کی وزارت  موسمیاتی تبدیلی (کلایمیٹ چنیچ) اور صوبائی محکمہ جنگلات کے  ساتھ معاہدے کے تحت تقسیم کئے گئے۔ اس سامان میں وہ سب کچھ شامل ہیں جس میں درخت چاہے کتنا ہی اونچی ہو ایک دوسرے کے ساتھ پائپ لگاکر زمین پر کھڑے ہوکر ہی اس سے چلغوزے کا کون اتارا جاسکتا ہے اور اس میں اگر درخت پر چڑھنا بھی پڑھے تو ایسے بلٹ بھی شامل ہیں جسے باندھ کر  زمیندار گرنے سے بھی بچ جاتا ہے۔

اس سلسلے میں وادی کیلاش کے بمبوریت گاؤں میں محکمہ جنگلات کے ریسٹ ہاؤس میں سادہ مگر پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض مہمان خصوصی تھے ان کے ہمرا ہ  کو آرڈینیٹر اعجاز احمد، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر عمیر نواز، کمیونٹی آفیسر، محکمہ ذراعت کے اہلکار بھی موجود تھے۔

تقریب سے  خطاب کرتے ہوئے ڈی ایف او چترال نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت اب چلغوزے کے درخت  ٹوٹنے اور ضائع ہونے سے بچ جائیں گے اور اس میں خوب فصل بھی اگے گی۔

پروگرام  کوآرڈینیٹر اعجاز احمد نے اس  موقع  پر  کٹ  کے استعمال کا طریقہ سکھایا اور اپنے عملہ کے فارسٹ گارڈ کو  حفاطتی بلٹ، سر پر حفاظتی ٹوپی (ہلمٹ) پاؤں میں لوہے کے بنے ہوئے ہک، اور بلٹ وغیرہ پہناکر ان کو عملی مظاہرہ کرایا تاکہ مقامی لوگوں کو سامان استعمال کرنے میں کوئی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

اے پی پی/گل حماد فاروقی/فاروق